تصدیق براھین احمدیہ — Page 252
تصدیق براہین احمدیہ ۲۵۲ باعث ادبار میں آگئی ان سے الہام کی حفاظت ہی نہ ہوسکی یا وہ لٹر پچر اور زبان ہی مرگئی جس میں وہ الہام ہوا تھا۔یہاں تک وہ قوم ادبار میں پھنسی کہ اس میں اپنے ہادی کے جانشین ملہم اور مقدس لوگ جو اس الہامی زبان کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور ان تعلیمات کو مختلف تدابیر سے پھیلایا کریں ان کا آنا بھی موقوف ہو گیا جیسے آریہ اور عیسائیوں میں اور ان کے بعد یہودیوں پارسیوں وغیرہ میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔اور اس قدیم الہام کی تفاسیر بھی ایسی مختلط ہو گئیں کہ حق کا باطل سے جدا کرنا محال ہوا۔اور قومی التاثیر مخلص ملہم جس کو اللہ کی طرف سے تائید ہو۔اس قوم میں پیدا نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ اور قوم کو جو صداقتیں پھیلا دے الہام فرماتا ہے اور اسے قوت بخشتا ہے۔تمام قرآنی صداقتیں اگر دنیا کی مختلف کتابوں اولڈ ٹسٹمنٹ ، نیوٹیسٹمنٹ ،سقراط کے ملفوظات، چاروید ، ژند ، وستا، دساتیر وغیرہ سے عبری، یونانی، ویدک ، سنسکرت ، دری ، کالڈی ، چین وغیرہ السنہ سے لینی پڑتیں اور ان میں ان کے مفسرین کے غلط مختصہ خیالات کو الگ کرنا پڑتا تو کیا مشکل بلکہ محال کام ہوتا۔پھر اگر کوئی ایسا جان باز ہوتا بھی اور وہ شب و روز کی محنتوں سے کسی حد تک پہنچ بھی جاتا تو اس کو دوسروں کے تسلیم کرانے میں کتنی وقتیں ہوتیں تامل کرو! جو کچھ کھیتوں میں سے ہم لاتے ہیں۔جولطیف دودھ خون و گوبر کے درمیان سے چارپایوں کی وساطت سے ہمیں ملتا ہے۔جولطیف لطیف و راحت بخش میوے ہم باغوں سے لاتے ہیں اور وہ نہایت صحت بخش چیز جو شہد کی مکھی کی وساطت سے ہمیں ملتی ہے۔اگر ہم اپنے کمسٹری آلات کے ذریعہ لینا چاہتے تو کتنی مشقت پھر غلطی و نانہی میں مبتلا ہوتے اللہ تعالیٰ نے تمام تعلیمات کو قرآن میں یکجا جمع کر دیا ہے۔اب ہمیں مختلف السنہ اور اقسام اقسام کی کتب کے جابجا ایک آسان کتاب پڑھ لینا کافی ہے وَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔اب ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ کوئی روحانی صداقت قرآن سے باہر نہیں اسی ضرورت کی طرف قرآن شریف اشارہ فرماتا ہے جہاں فرماتا ہے۔