تصدیق براھین احمدیہ — Page 243
تصدیق براہین احمدیہ ۲۴۳ لکھا ہے۔یہاں مکذب براہین نے وہی مضمون اپنے مطلب پر لا ڈھالا ہے۔اس جگہ کوئی اپنا کمال نہیں دکھایا۔رسالہ عدم ضرورت قرآن کے مصنف سے میرے ایک دوست نے با لمواجہ گفتگو میں کہا ہے۔پادری صاحب ! دنیا میں نیک بھی گزر چکے ہیں اور بدکار بھی۔کتابوں کے مصنف بھی خدا تعالیٰ پیدا کر چکا اور تصنیفات کو تباہ کر دینے والے عیسائی بھی جیسے ڈکلائن اینڈ فال آف رومن امپائر وغیرہ میں اسکندریہ کے عظیم الشان کتب خانہ کی بابت مذکور ہے۔اور جیسے حواریوں کے اعمال سے ظاہر ہے کہ پچاس ہزار کی کتابیں ان کی تعلیم سے جلا دی گئیں۔(دیکھو اعمال ۱۹ باب ۱۹) اور آریہ ورت میں بدھ اور جینیوں نے کتابیں جلا دیں۔جیسے ستھیار تھ پر کاش طبع اول کے صفحہ نمبر ۳۱۲ میں مندرج ہے۔پادری صاحب ! برے اور بھلے سب تو ہو چکے اب اللہ تعالیٰ کو اچھے لوگوں کے پیدا کرنے اور بروں کے خالق ہونے کی کیا ضرورت ہے۔پادری صاحب اس سوال کے جواب سے اس وقت ہی ساقط نہ تھے بلکہ آج بھی چپ ہیں مگر میرا اس کتاب میں پادریوں کے جواب دینے کا ارادہ نہیں اور نہ میری مخاطبت کا منشا ہے کہ اس میں ایسے جواب لکھے جاویں۔بلکہ یہاں تو یہ تفتیش ہے کہ قرآن کریم نے اپنی ضرورت کو کس طرح ثابت فرمایا ہے۔اس لئے مجھے یہ بیان کرنا پڑا کہ قرآن کریم اپنی وجوہ ضرورت میں کیا کچھ بیان کرتا ہے سو ان وجوہات کو لکھتے ہیں۔مگر اس قدر کہنے سے چشم پوشی نہیں کر سکتے کہ مکذب نے تکذیب کے صفحہ نمبر ۹۵ میں لکھا ہے۔”ہم لوگ جو تناسخ کو مانتے ہیں کسی کا الہام پانے سے محروم رہنا اس کی شامت اعمال جانتے ہیں“۔پس ہم آریہ کو کہتے ہیں ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی بد عملی میں گرفتار نہ تھے جس کی شامت کے باعث الہام سے محروم رہتے۔سوچو! اور غور کرو! قرآن کریم ہمارے سید و مولیٰ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن لانے والا رسول ثابت کرنے اور حضور علیہ السلام کو قرآنی ہادی بنانے پر فرماتا ہے کہ اس قسم