تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 195

تصدیق براہین احمدیہ ۱۹۵ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد برکت مہد میں ایک خطیب نے اثنائے خطبہ میں من يطع الله ورسوله فقد رشد و اهتدی کے بعد یہ کہا۔ومن يعصهما۔اس پر آپ نے فرمایا بس الخـطـيـب انـتـ و عن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تطروني كما اطرت النصارى ابن مريم فانما انا عبده - فقولوا عبد الله و رسوله متفق عليه سجده کرنے کرانے کی بابت سن لو۔کیا لطیف واقعہ گزرا ہے۔عن قیس بن سعد قال اتيت الحيرة فرايتهم يسجدون لمرزبان لهم فقلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم احق ان يسجد له، فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني اتيت الحيرة فرايتهم يسجدون لمرزبان لهم فانت احق بان يسجد لك، فقال لى ارايت لو مررت بقبرى أكنت تسجد له، فقلت لا فقال: لا تفعلوا - ( مشکوۃ شریف صفح نمبر ۲۷۴۰ کتاب النکاح۔باب عشرۃ النساء - الفصل الثالث ) ہمہ اوست کے مسئلہ پر ایک آیت بھی نص صریح الدلال ہی نہیں یہ دیگر بات ہے یہ دیگر بات ہے کہ خود غرض لوگوں نے اپنے مدعا کے اثبات کے لئے قرآن کریم سے اس پر استدلال کیا ہے۔میں نے یہ دو آیتیں قائلین وحدۃ الوجود سے استدلال میں سنی ہیں۔اول وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (الذاریات: ۲۲)۔مگر جب اس آیت کا ماقبل ان سے دریافت کیا جاوے تو حیران رہ جاتے ہیں۔اس کا ماقبل یہ ہے وَفِي الْأَرْضِ لیتُ لِلْمُوقِنِينَ (النزاريات:۲۱)۔بات نہایت صاف ہے کہ اس زمین میں اس موجودات میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔اور جب تم اس سیر قیس بن سعد کہتے ہیں کہ میں حیرہ میں جو گیا وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ اپنے حاکم کو سجدہ کرتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو اور بھی زیادہ حق ہے کہ انہیں سجدہ کیا جاوے۔میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے حیرہ میں ایسا دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے حاکم کو سجدہ کرتے ہیں آپ تو زیادہ تر حق دار نہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جاوے آپ نے فرمایا اچھا تو اگر تجھے میری قبر پر سے گزرنے کا اتفاق کبھی ہوا تو تو کیا اسے سجدہ کرے گا۔تو میں نے کہا نہیں۔اس پر آپ نے فرمایا: ہاں، خبر دا رایسا مت کیجیئو۔ہیں۔نوٹ: دنیا میں یہ عام مرض پھیلا ہوا ہے کہ متکلم یا قائل کی ذاتی وجاہت اس کی معروف شہرت اس کی مسلم الثبوت سیرت اور اس کی معہود اصطلاح و مراد کے خلاف اس کے کلام کا مطلب لیا جاتا ہے۔اور بڑے بڑے اہم مقاصد یا اعتراضات کا مبنی اس کو قرار دیا جاتا ہے۔یہ ایک مغالطہ ہے جس نے تحقیق حق کے رستہ میں اہل چٹان کا کام دیا ہے۔اب اسلام اور صاحب اسلام کا منشا مشن عیسائیوں کے مسئلہ تثلیث و کفارہ کی طرح چیستان لانخیل کا ہم پہلو نہیں رہا قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرة: ۲۵۷)