تصدیق براھین احمدیہ — Page 189
تصدیق براہین احمدیہ ۱۸۹ ن میں سب کچھ پیدا کر سکتا ہے کیونکر مانا جاوے کہ وہی ایسی قدرت والا دانوں کے بنانے میں اتنی دیر کرے تب اس عزیز نے کہا صاحب یہ اس کی خواہش۔اچھا اس کی مرضی ہے اور ساتھ ہی ہنس دیا اور کہا کہ جواب ہو گیا۔مکذب کی دلیل جو صفحہ نمبر ۶۹ میں ہے اور جو آپ نے اس آیت کے مقابلہ میں لکھی ہے۔ہرن ( زر) گربہ ( کار معدن ) سمورتنا ( ہوتا ہوا ) گرئے (اول) بھونسی ( تمام عالم ) جات ( کے جو ہوا) پتی (غالب) ریک (ایک) آاسیت ( ہوتا ہوا) سدا د ہار ( قیوم ) پرتھوی (زمین ) آنگ دیا (آسمان) موتے مان (یہی نشان ہیں ) کسمئے (ایسے دروپ) دیوائی ( پر کاش والوکو ) ہو دیکھا ( ہون کر کے ) و دھیم ( قربانی کرتے ہیں ) تکذیب کے صفحہ نمبر اے میں اثبات وجود صانع پر چھٹی قرآنی دلیل دیکھی ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ (الكهف :) اور اس کو دلیل اثبات صانع سمجھ کر اس پر یہ پانچ اعتراض کئے ہیں۔ایک ہے۔(۱) عرب والے اللہ کو پہلے ہی مانتے تھے اور صدق دل سے جانتے تھے کہ خدا (۲) محمد صاحب کے باپ کا نام عبد اللہ تھا۔حالانکہ مکہ کے مندر کا پوجاری تھا۔پھر اس میں ( آیت قرآنیہ ) کوئی نئی تعلیم ظاہر نہیں ہوئی“۔اور پھر آیہ ذیل إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: (۱) کو اعتراضات کا نشانہ بنانے کے لئے کلام کو اس طرح پر طول دیا ہے۔(۳) '' یہاں پر محمد صاحب کے ہاتھ کو قرآن خدا کا ہاتھ بتلاتا ہے اور اس سے ہاتھ ملانا خدا سے ہاتھ ملانا جتلایا گیا ہے کیا یہی تو حید کی تعلیم ہے“۔لے تو کہ سوا اس کے اور کچھ نہیں کہ میں تم سا ایک بشر ہوں میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔