تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 173 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 173

تصدیق براہین احمدیہ ۱۷۳ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيب (البقرة : ۱۸۷) کو پڑھ لو۔پرتھم جامرت سیا کے بالمقابل۔هُوَ الاول (الحديد: ۴- هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة : ۲۵۲)۔دیکھ لو اس منتر کے تمام آخری حصہ کے مقابلہ میں وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ (محمد:۳۹) پورا تسلی بخش ہے۔دوسرا منتر سنو ( وہ ہمارا) بندھو ( دوست ) رجنتا (خالق) سود ہانا (مبدع) دہامانی (عناصر ) وید (عالم) بہوتانی (عالم) دشوا ( تمام ) بیتر (عالم) دیویہ (فرشته ) امرت مانشو ناس ( آب حیات کو نہ پی کر ) تریبے ( تیسری دہام لوک ندھیر تم۔مطلب اللہ تعالیٰ ہمارا دوست خالق عناصر عالم تمام جہان دیو تہ آب حیات جیسے چیز کو ترک کر کے۔اس تیسرے مقام والے کی عبادت کرتے ہیں۔اس قسم کی صفات قرآن کریم کی آیات ذیل میں موجود ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : (٢) خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ١٠٣) - وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۸۳) ـ وَالَّذِينَ امَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة : ۱۲۲) سے جو سورہ بقر میں ہے معلوم ہوتا ہے کہ عام ایمان والے بھی باری تعالیٰ کی ذات پاک کو ہر چیز سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔اور ملائکہ تو پھر بطریق اولی ایسے ہوں گے۔آب حیات کیا چیز ہے۔آب حیات بھی ایک شَىءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ ہے وَرِضْوَانُ مِنَ اللهِ اَكْبَرُ (التوبة: ۷۲) اس کے مقابلہ میں قرآن کریم فرماتا ہے۔لطیفہ۔اس وید منتر کا آخری جملہ بتاتا ہے کہ باری تعالیٰ زمین اور آسمان کے وراء کسی تیسرے مقام میں ہے۔غالبا یہ ہی وہ مقام ہے جس کو اہل اسلام عرش کہتے ہیں۔مکذب براہین نے تکذیب کے صفحہ نمبر ۶۹ میں قرآن شریف کی آیت۔يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ (القلم: ۴۳) کو صانع عالم کی ہستی کی دلیل سمجھ کر یہ اعتراض کیا ہے۔”خدائے بے چون و چرا محمد یوں کو کہتا ہے۔میں قیامت کے روز تم کو دیدار دوں گا اور تم نہیں مانو گے اور پھر میں تمہارے اصرار کرنے پر پنڈلی سے جامہ اٹھا کر بتلاؤں گا تب تم سجدہ میں گرو گے۔جائے تعجب اور حیرت ہے۔خدا تعالیٰ بسبب زودرنجی کے جامہ سے باہر ہوا جاتا ہے اور نہیں شرما تا “