تصدیق براھین احمدیہ — Page 172
تصدیق براہین احمدیہ ۱۷۲ عزت وسلطنت عالمگیر پر پہنچانے والا۔دوسرے تم لوگ پتھروں سے حاجات کے مانگنے والے فسق و فجور میں قوم اور ملک کو تباہ کرنے والے اور وہم پرست ایسے کہ اپنے لئے تو اولاد نرینہ کو پسند کریں اور باری تعالیٰ کی پاک ذات پر یہ عیب لگاویں اور یہ بدا عتقاد کریں کہ معاذ اللہ فرشتے اور ملائکہ اللہ تعالیٰ رحمن کی بیٹیاں ہیں۔مشرکو! دیکھا بت پرستی نے تم کو کس کو ئیں میں گرایا ان کی اسی نادانی کا بیان ہے۔الَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيزُى (النجم: ۲۳:۲۲) اس تفسیر سے مکذب کے ان اعتراض نمبر ۳ اور نمبرے دونوں کا جواب ہو گیا جن کو مکذب نے تکذیب کے صفحہ نمبر ۶۴ اور اے میں بیان کیا ہے۔سورہ والنجم کی پہلی چند آیات اور پہلے رکوع کی آخری چند آیات کے مقابل مکذب نے تکذیب کے صفحہ نمبر ۶۴ وصفحہ نمبر ۷۴ میں یہ دو منتر لکھے ہیں۔سورہ والنجم کے قریباً تمام رکوع کا ترجمہ مع تفسیر لکھ چکا ہوں۔اب منتروں کا ترجمہ سنو اول منتر : پرتیسے ( محیط) بہوتانی ( عناصر) پر تیے ( محیط ) لوکانی (عالم) پر تیے (محیط) سروا ( تمام ) پر دشو( زوایا عالم) هیچ (جوانب ) لسپتہاے( قریب ٹھہرا ہوا ہے ) جامرت سیا ( غیر فانی ) تمنا تمانم ( اپنے آپ کر کے اپنے آپ میں ) پھ سنوشیش ( داخل ) یہ تیسری دلیل ہے جس کو مکذب براہین نے ہستی صانع عالم کے اثبات میں وید سے بیان کیا ہے۔جہاں تک میں خیال کر سکتا ہوں۔اس قسم کا بیان دہر یہ پر حجت نہیں ہوسکتا البتہ صانع عالم کے ماننے والے کے لئے بشرطیکہ کوئی اس کلام پر ایمان لانے والا ہو۔ذات باری کے ساتھ ازدیاد محبت کا باعث ضرور ہے۔اور اگر مان لیا جاوے کہ اس طرح صفات کا ملہ الہیہ کا بیان بھی اثبات صانع عالم میں کافی ہے تو کیا پھر ایسا بیان قرآن کریم میں نہیں ؟ اگر آریہ کو علم نہیں تو ہم قرآن کریم سے بیان کرتے ہیں۔پہلے آٹھ نو الفاظ کے بدلے گانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب: ۳۱) إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ محيط (حم السجدة : ۵۵) ـ أحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (الطلاق:۱۳)۔اسپتھا شہد کے بدلے لے کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے۔