تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 170

تصدیق براہین احمدیہ ۱۷۰ فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (النجم: 1) مَا أَوخی میں ابہام نہیں جیسا کہ مکذب براہین نے وہم کیا ہے مسا عربی لفظ موصولہ اور معرفہ ہے او حسیٰ اس کا صلہ ہے ما اوحی کیا چیز ہے یہی قرآن کریم اور حضور علیہ السلام کی تمام پاک تعلیم جس کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ روح بھی فرمایا ہے۔جہاں فرمایا۔وكذلك أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشوری: ۵۳) اور یہ وہی روح ہے جو الوہیت اور عبودیت کے کامل میل سے پیدا ہوتی ہے بلکہ یوں کہیئے کہ اس کا اللہ سے فیضان ہوتا ہے اللـهـم ایــدنـی بروح القدس امین۔اب اس کی عمدگی اور راستی کی نسبت فرماتا اور مدعی الہام کی حالت کو بتا تا ہے۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى اَفَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى (النجم: ۱۳:۱۲) عرب کا یہ بھی دستور تھا جیسے قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب بڑے بڑے کاموں کے واسطے پبلک اور عام اہل الرائے کی رائے لی جاتی تو کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتے کیونکہ ان کے چھوٹے خیمے جلسہ کے قابل نہ ہوتے تھے۔اور عام سایہ دار درختوں میں سے بیری کا درخت اس ملک میں بڑا درخت سمجھا جاتا ہے۔اس رسم کے مطابق باری تعالیٰ حجاز کے باشندوں کو جو حضرت صاحب الوحی کے مخاطب ہیں اور آپ کی دعوت کا ابتداء روئے سخن بھی ان ہی کی جانب ہے یوں فرماتا ہے کہ جہاں اس ہادی محسن خلق ، رحمت عالمیان نے مشورہ لیا وہ بیری تمام دنیا کی بیریوں سے بڑی بیری تھی۔اور وہ تمہاری دنیا کی سی بیری نہ تھی وہ تمہارے نظام تشسی سے کہیں اونچی سات آسمانوں سے پرے کی بیری ہے وہ بیری تو کچھ ایسی بیری ہے جس کی جڑھ سے تمام دینی اور دنیوی منافع کی ندیاں نکلتی ہیں۔باغ عدن کی ندیاں بھی اسی کی جڑھ سے نکلتی ہیں۔جن کو تم جیحون اور سیون اور نیل و فرات کہتے ہو اسی کی جڑھ سے نکلتے ہیں جنة الخلد کی ندیاں بھی وہاں ہی سے رواں ہیں خود جنة السماوی بھی اسی کے پاس ہے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ ا پھر اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دل میں ان عظیم الشان اسرار ( قرآن کریم ) کو ڈالا۔ہے اس دل نے جو دیکھا خوب دیکھا ( یعنی مغالطہ نہ کھایا ) کیا تم اس کی دید پر جھگڑتے ہو۔