تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 135

تصدیق براہین احمدیہ ۱۳۵ نہیں ہوسکتا کہ ہم مکذب کی طرح کہیں آواز دینے والی خود آگ ہی تھی۔کیونکہ اگنی ، وایو، سورج، انگر ه، ماهان وید (حسب تسلیم آریہ) نے جب وید کی رچائیں لوگوں کو سنائیں جو کچھ لوگوں نے اپنے کانوں ان رشیوں سے سنا وہ حسب تسلیم آریہ کے خدا کا کلام تھا۔نہ اس اگنی اور سورج وغیرہ کا حالانکہ اگنی اور وایو اور سورج کی زبان سے سنا گیا۔انصاف کرو! اگنی ، سورج، وایو اگر آدمی اور رشی تھے جیسے دیا نندی آریہ کا اعتقاد ہے۔اور ان کا بولا ہوا کلام الہی کلام مانا گیا تو موسیٰ علیہ السلام کا وہ الہام جس کی آواز انہوں نے آگ سے سنی الہی کلام کیوں نہیں مانا جاتا ؟ آگ کا غیر ناطق ، غیر متکلم ، جڑ ہونا صاف گواہی دیتا ہے کہ وہ کلام آگ کا نہ تھا بلکہ کسی اور کا کلام تھا۔بخلاف اس کے ملہان وید کی کلام پر ایسا یقین نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ادعاء واختلاق ان کی طرف منسوب ہو سکتا ہے۔سنو! ملہم کو جب الہی آواز کان میں پڑے گی تو ضرور ہے کہ اگر وہ ہم کسی موجود مخلوق کے سامنے کھڑا ہے تو اسی چیز یا مہم کے قلب سے اس کو وہ آواز سنائی دے گی۔اس میں شبہ ہی کیا ہے مشاہدہ فطرت سے عیاں ہے پر دیکھنے والی آنکھیں بھی ہوں۔اگر ہم مان لیں کہ آگ سے وہ آواز سنائی دی۔پھر بھی وہ آواز آگ کی کیسے ہو سکتی ہے؟ مثلاً ہم دیوار یا کسی جڑھ پدارتھ کے پاس ایسے جنگل میں جہاں کوئی بولنے والا نہ ہو کوئی کلام سنیں تو کیا ہم کہ دیں گے کہ دیوار بول رہی ہے۔یہ یقینی امر ہے کہ جو آگ جناب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھی تھی وہ عصری آگ نہ تھی بلکہ عالم مثال کی ایک کیفیت تھی۔اور جناب موسیٰ علیہ السلام کی کشفی آنکھ نے اسی نور الانوار کی زبر دست نجلی کو دیکھا۔مکذب براہین نے اثبات صانع کی دوسری دلیل اپنی وید سے وہ لکھی ہے جس کو خاکسار