تصدیق براھین احمدیہ — Page 119
تصدیق براہین احمدیہ ۱۱۹ وَاذْقَالَ ابْرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِي أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ (إبراهيم: ۳۷،۳۶) اَضُلَلُن کا لفظ قابل غور ہے اس لئے کہ اضلال اور گمراہ کرنے کی نسبت بتوں اور پتھروں کو دی گئی جن میں گمراہی کے خلق کرنے کا ارادی مادہ بالکل نہیں بلکہ محض بے جان بے ضرر چیزیں ہیں۔مکذب صفحہ ۴۹۔” جس مذہب میں اعتراض کرنا یا شک لانا کفر کا نشان ہے اُس ایمان بالجبر یا ایمان بالمکر کا خود اس کی زبان سے ہی بد یہی البطلان“۔مصدق۔یادر ہے جبر اور اختیار یہ دونوں ناقص اور مہمل الفاظ ہیں۔جبر یہ ہے کہ کسی کا دل نہ چاہے اور زور کے ساتھ اس سے کام لیا جاوے۔باری تعالیٰ اس طرح کسی شخص سے بجبر اعمال صالح یا بُرے کام نہیں کراتا۔کیونکہ جابر ظالم ہوتا ہے اور باری تعالیٰ کی ذات پاک اس الزام سے بری ہے قرآن نے اسی واسطے یہ دونوں لفظ چھوڑ دیئے ہیں اور تقدیر پر اعتراض کرنے والوں کو خوب جواب دیا ہے جیسے فرمایا ہے۔سَيَقُولُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا أَبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاقُوا بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا اِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنْ أَنْتُمُ إِلَّا تَخْرُصُوْنَ لے اور جب کہا ابراہیم نے اے رب اس شہر (مکہ) کو با امن بنانا اور مجھے اور میری اولادکو بتوں کے پوجنے سے بچائے رکھنا۔اے رب ! ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ے مشرک بول اٹھیں گے اگر اللہ چاہتا ہم اور ہمارے باپ دادے نہ تو شرک کرتے اور نہ کسی شئی کو حرام کرتے ان سے پہلوں نے بھی ایسا ہی کہا یہاں تک کہ ہماری سزا کا مزا چکھا۔اے نبی ! ان سے کہ تمہارے پاس کوئی اس بارہ میں علم ہے تو لاؤ ہمیں نکال کر دکھا ؤ تم تو ظن کے نیچے لگے ہو اور انکلیں لگارہے ہو۔اے نبی ! کہہ ( جب تمہارے پاس اس اپنے دعوی کی کہ اللہ کی مرضی سے شرک ہوتا ہے کوئی دلیل نہیں اور تم جھوٹے نکلے تو پورا غلبہ اللہ کو حاصل ہے اگر اس کی مشیت ہوتی تو تمہیں ہدایت دیتا نہ یہ کہ شرک کرواتا جیسا تمہارا گمان ہے )۔