تصدیق براھین احمدیہ — Page 115
تصدیق براہین احمدیہ ۱۱۵ (۷) جنت الخلد کی نسبت جس کو بہشت کہتے ہیں وارد ہے لا لغو فِيهَا لَغُوفِيهَا وَلَا تَأْثِيمُ (الطور : ۲۴)۔اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے وہاں شیطان نے لغو اور گناہ کیا۔(۸) جنت الخلد کی نسبت آیا ہے " لَا يَسْمَعُوْنَ فِيهَا لَغُوا وَّلَا كِذْبَّا (الا: ٣٦) اور جہاں آدم علیہ السلام رہے وہاں جھوٹ سنا۔(۹) جنت الخلد آسمان میں ہے اور جس جنت میں آدم رہے وہ زمین میں ہے جیسے کہا ہے إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرۃ: ۳۱) اور نہیں فرمایا۔فِي السَّمَاءِ أَوْ جَنَّةَ الْمَأوى (۱۰) جنت الخلد میں شیاطین کو دخل نہیں اور ان کی خبیث باتیں وہاں نہیں پہنچ سکتیں إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (فاطر: (۱)۔غرض آدم علیہ السلام اس ملک میں رہے۔اور شیطان ان سے عداوت کرتا رہا۔انگور یا اس درخت کے کھانے کے بہانے بتا تا رہا جس کی ممانعت تھی جیسے آیات ذیل میں ظاہر ہے۔فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ لِيُبْدِيَ نَهُمَا مَا وُرِى عَنْهُمَا مِنْ سَوْاتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهُكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَلِدِينَ وَقَاسَمَهُما إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ التَّصِحِينَ (الاعراف:۲۲،۲۱) قَالَ يَا دَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكِ لَا يَبْلى (طه: ۱۳۱) مگر شیطان کے کہنے پر آدم علیہ السلام نے کبھی عمل نہ فرمایا اور اس بے ایمان کے قول پر لے جنت میں بدکاری اور بہکنا نہیں۔ے اس میں لغو اور جھوٹ نہ سنیں گے۔سے اس کی طرف پاک باتیں صعود کرتی ہیں۔پھر شیطان نے ان میں بدخیال ڈالنے شروع کئے اس لئے کہ ان کی پوشیدگی کو ظاہر کر دے اور کہا کہ تمہارے خداوند نے تمہیں اس درخت سے اس واسطے روکا ہے کہ (اس کے استعمال سے ) فرشتے یا سدا زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ اوران سے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔اور کہا اے آدم میں تمہیں ہمیشگی کا درخت اور غیر فانی بادشاہی دکھلاؤں۔