تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 106

تصدیق براہین احمدیہ 1+4 غرض اس زمین کے تمام مقدس فرشتوں کے مقدس گروہ نے آدم علیہ السلام سے پہلی قوموں کی بدا طواری اور کافروں، ڈشٹوں ، دیسیوں، شیطانوں اور آسروں کے برے کام اور بدچلنی دیکھی ہوئی تھی عالم الغیب تو بجز ذات پاک باری تعالیٰ کے کوئی بھی نہیں الا من شاء اللہ نہ انبیاء نہ اولیاء۔وہ ملائکہ بھی ایسے ہی محدود العلم۔محدود التجربہ مخلوق تھے۔اپنی کم علمی اور غیب نہ جاننے کے باعث اور کچھ خلیفہ کے لفظ سے جس کے معنی نائب اور قائم مقام کے ہیں۔غلطی سے سمجھ بیٹھے کہ یہ آدم بھی آدم ہے پہلی قوموں کی طرح فساد قتل ، اور سفک دمانہ کرے۔اس آدم کی واقعی نیکی اور نیک چلنی کا ان کو علم نہ تھا۔اس لئے باری تعالیٰ کی معلی بارگاہ میں عرض کیا۔أتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرة: ٣١) بزرگوں دیوتاؤں کا کام تو یہی تسبیحات اور تجید الہی اور باری تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔اور بس، وہ بیچارے اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کے کاموں کے اسرار سے کیا واقف کہ فقط لسانی تحمید و تقدیس سے دنیوی انتظام اور دینی کام اس دار نا پائیدار کے نہیں چلتے۔میرا یہ کہنا کہ آدم سے پہلے اور قو میں دنیا میں آباد تھیں اول تو قرآن کی اس آیت سے ظاہر ہے بلکہ مکذب نے بھی اس امر کو تکذیب میں تسلیم کیا ہے۔فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ (البقرة: ۳۵) اور لفظ مِن کے معنی بعض کے ہوتے ہیں اور کان ماضی کا صیغہ ہے۔اور اخبار الدول اور آثار الا قل کی چوتھی فصل میں لکھا ہے۔پہلے ہی سے فتنہ وفساد کی رویں اور شر کے طوفان تھوڑے چل رہے ہیں۔یہ بھی تو کوئی از این قبیل ہی ہوگا۔تیرا جلال ظاہر کرنے کو ہم بھی آخر ہیں ہی۔ے ان سب نے اس کی اطاعت کی مگر ابلیس نے ابا کیا اور گردن کشی کی اور باغیوں میں سے ایک وہ بھی ہو گیا۔