تصدیق براھین احمدیہ — Page 105
تصدیق براہین احمدیہ ۱۰۵ بنائے گئے تھے۔وہ ایک خاص ملک تھا اور جہاں آدم پیچھے روانہ کئے گئے وہ اور ملک تھا اس لئے یہاں الف لام تخصیص کے معنے رکھتا ہے۔اور لفظ خلیفہ اور الا رض کے معنے معلوم کرنے کے واسطے آیت ذیل کو پڑھنا چاہیئے۔يدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (ص:۲۷) اس آیت میں لفظ خلیفہ اور لفظ الارض سے اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ الف ولام خصوصیت کے معنے دیتا ہے اور آگے چل کر لفظ جنت کی تحقیق میں ہم اور زیادہ تفصیل کریں گے تفاسیر میں لکھا ہے۔فهموا من الخليفة انه الذي يفصل بين الناس ما يقع بينهم من المظالم و يرد عنهم المحارم والماثم قرطبی ابن كثير زير آيت البقرة: ۳۱ والصحيح انه انما سمى خليفة لانه خليفة الله في ارضه لاقامة حدوده و تنفيذ قضاياه ـ فتح البيان الخليفة هو من يخلف غيره والمعنى خليفة منكم لانهم كانوا الخليفة هو۔سكان الارض او خليفة الله فى ارضه و كذالك كل نبيـ نحو يا داؤد انا جعلناك خليفة في الارض تفسير مدارك - لے اے داؤد ہم نے تجھ کو اس زمین میں خلیفہ بنایا سو تو لوگوں میں حق حق فیصلہ دیا کیجیؤ۔لفظ خلیفہ سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے تنازعات با ہمی کو فیصل کرے۔اور نا کر دنی امور سے انہیں باز رکھے۔قرطبی۔ابن کثیر۔ے اور اصل یہ ہے کہ اسے خلیفہ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ بن کر اس کی زمین میں حدود کو قائم کرتا اور اور احکامات کو جاری کرتا ہے۔فتح البیان ے خلیفہ اسے کہتے ہیں جو کسی کا قائم مقام ہو۔آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ تم میں کا خلیفہ ہے۔کیونکہ وہ لوگ زمین کے باشندے تھے۔اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے اس کی زمین میں۔اور اسی طرح ہر نبی اس کا خلیفہ ہے مثلاً اے داؤد! ہم نے تجھے اس زمین میں خلیفہ بنایا۔تفسیر مدارک