تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 101

تصدیق براہین احمدیہ 1+1 تب خدا نے پوشیدہ آدم کو مخلوقات کے نام سکھلائے اور پھر پارلیمنٹ یعنی فرشتوں کو کہا اگر تم بزرگ ہو اور اپنی عقل پر فخر کرتے ہو تو تمام مخلوقات کے نام بتلاؤ۔اس سوال کا جواب فرشتوں سے نہ بن آیا۔تب خدا نے اپنے پالتو طوطے کو کہا کہ اے آدم بتا دے ان کو نام ان کے۔تب آدم نے بتا دیے۔خدا نے صریح و توضیحا مکر کیا فریب کیا دھوکہ دیا۔داؤ کھیلا۔پس خدا انہیں صفات سے موصوف ہے۔دوسرا اعتراض۔شیطان کی پیدائش خدا کے ارادہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے احاطہ اقتدار سے باہر ہے یا اس کی مرضی کے برخلاف اگر ارادہ اور قدرت سے باہر نہ ہوتے تو شیطان کو اپنے مقربین ملائک کا معلم نہ بناتا اور جب عمدہ شیطانیت کی تعلیم دے چکا تو اس وقت کنبہ کرن کی نیند سے خدائے محمد یان بیدار ہوئے۔تیسرا اعتراض۔قرآنی خدا عالم الغیب بھی نہیں۔اگر عقل رکھتا اور حور وغلمان کی محبت سے آزاد ہوتا وقت پر یا وقت سے آگے سوچتا۔مگر وہ تو محمد شاہ رنگیلے یا واجد علی شاہ کی طرح زائچہ حمل میں بیٹھا ہوا تھا۔والا شیطان سے سجدہ کرنے کی بابت پوچھ کر شرمندہ نہ ہوتا۔چھ دانی و پرسی سوالت خطار چوتھا اعتراض۔خدائے محمد یاں علم مباحثہ سے نا واقف اور ساتھ ہی زود رنج ہے اور تعصب والا جو اسے معقول جواب دے اس پر لعن طعن کرتا ہے۔فرشتے کاٹ کے پتلے غیر اللہ کو سجدہ کر کے ہی کافر ہوئے اور شیطان نے سمجھا مخلوق کو سجدہ کفر ہے۔مست کھڑا رہا۔جب خدا نے وجہ پوچھی تو عمدہ وجہ بیان کی۔خدا نے کہا آدم کو مخلوق کے نام آنے سبب بزرگی ہے۔شیطان نے کہا مجھے تیرے عشق سے۔خدا نے کہا آدم خاکی ہے اور خاک پاک۔شیطان نے کہا وہ عرض کثیف ہے میں جو ہر لطیف ہوں۔خدا نے کہا اس کو میں نے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔شیطان نے کہا مجھے تو نے قدرت سے، بناوٹ سے قدرتی عمدہ ہے۔خدا نے کہا کہ تو عزت والا ہے یا متکبر۔