تصدیق براھین احمدیہ — Page 187
تصدیق براہین احمدیہ ۱۸۷ ان اشیاء کو پیدا کیا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ چھ روز میں یہ چھ چیزیں پیدا کیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک ایک چیز ایک ایک روز میں ایک آن کے اندر کلمہ حُسن سے پیدا ہوئی۔ہفتم۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خَالِقُ الْاَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ معطل بریکار نہیں وہ ہمیشہ اپنی کاملہ صفات سے موصوف ہے۔ایسا کیوں مانا جاوے کہ تمام اشیاء کو ایک آن میں پیدا کر کے پھر معطل ہو گیا؟ بلکہ وہ ہمیشہ خالق ہے اور مخلوق کا حافظ ہے اور رہے گا۔ہشتم۔اس لئے کہ یوم عربی زبان میں مطلق وقت کو کہتے ہیں پس سِتَّةِ آیا م کے یہ معنی ہوں گے چھ وقت میں۔چاہو وہ وقت ایک آن كَلَمْحِ الْبَصَر لو چاہوتو وہ ایک ایک یوم لاکھوں کروڑوں برس کا یوم جیسے راقم کا اعتقاد ہے سمجھو۔نہم۔اس لئے کہ یوم عربی زبان میں اس زمانہ اور وقت کو بھی کہتے ہیں جس میں کوئی واقعہ گزرا۔گو وہ واقعہ کتنے بڑے وقت میں گزرا ہو۔دیکھو۔یوم بعاث، یوم حنین، یوم بنو بکر، یوم بسوس، یوم عاد وغیرہ وغیرہ اس زمین و آسمان وغیرہ کی پیدائش کے زمانہ کو اس محاورہ پر یوم کہا گیا۔وہم۔اس لئے کہ پدارتھ و دیا یعنی علم طبعیات خصوصاً علم طبقات الارض سے ثابت ہو چکا ہے۔یہ زمین کسی زمانہ میں آتشین گیاس تھا۔بلکہ یوں کہئے کہ ایک ستارہ روشن تھا جب قدرتی اسباب سے اللہ تعالیٰ نے اس میں کسی قدر کثافت پیدا کر دی تو یہ زمین اس وقت ایک سیال مادہ ہو گیا جسے عربی زبان میں السماء کہتے ہیں اور اس پر اس وقت ہوا چلا کرتی تھی جیسے تو ریت شریف کی کتاب پیدائش کی پہلی آیتوں میں لکھا ہے۔پھر جب وہ الماء زیادہ کثیف ہو گیا تو اس پر وہ حالت آ گئی جس کے باعث اس پر زمین کا لفظ بولا گیا۔پس ایک دن اس پر وہ تھا کہ یہ زمین سیال ہوئی اور دوسرا دن وہ آیا کہ کثیف ہو گئی طبقات الارض سے یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جس قدرزمین کے نیچے مرکز کی طرف کھودا جاوے زمین کی گرمی بہ نسبت بالائی سطح کے نیچے کو بڑھتی جاتی ہے حتی کہ اب بھی چھتیں میل کی دوری پر ایسا گرم مادہ موجود ہے جس کی گرمی تصور سے باہر ہے اس