تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 117

تصدیق براہین احمدیہ شیطان کے کلمات کی نسبت قرآن کریم کا فتویٰ یہ ہے۔وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا (النساء :۱۳۱) بلکہ شیطان نے خود بھی اپنے تئیں بغاوت کا ملزم ٹھہرایا جیسے گز را بلکہ ہر بد کا را پنی بغاوت اور سرکشی اور نافرمانی اور غواستہ میں ہرگز ہرگز باری تعالیٰ کی قدوس ذات پر ظلم اور جبر کا الزام نہ لگادے گا اور جب پوری راستی سے اظہار دے گا تو یہی کہے گا أَغْوَيْنَهُمْ كَمَا غَوَيْنَا (القصص: ۲۴) کیونکہ اللہ تعالیٰ بجبر کسی سے شر اور برائی نہیں کراتا۔اگر چه آدم علیہ السلام شیطان کے کہنے پر نہ چلے۔مگر مدت کے بعد وہ درخت کے پاس جانے کی الہی ممانعت کو بھول گئے ایسی بھولوں سے بچنے کے واسطے باری تعالیٰ نے ہمارے ہادی اور سردار عالم رحمت عالمیاں کو قرآن کریم کے یاد رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کا قصہ فرمایا ہے۔وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى أَدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما (طه : ۱۱۶،۱۱۵) اور اُسی نسیان پر آدم علیہ السلام کو عَلَى أَدَهُ رَبَّهُ فَغَوى (طه: ۱۳۳) فرمایا اور چونکہ اصل مبدء اور اس نسیان کا باعث وہی مکالمہ شیطان تھا اور اسی گفتگو کا زنگ تھا آدم علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا۔د فَازَلَّهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ (البقرة: ۳۷) کتاب خازن کی تفسیر میں لکھا ہے۔ے شیطان کے وعدے ان سے نرمی دھوکہ بازی ہے۔ے ہم تو ڈوبے تھے پر انہیں بھی لے ڈوبے۔ے اور جلدی مت کر قرآن سے قبل اس کے کہ اس کی وحی تجھ پر پوری ہو اور کہو اے رب مجھے علم زیادہ دے۔اور ہم نے آدم سے عہد کیا وہ بھول گیا اور اس میں اس کا کوئی قصد نہ تھا۔آدم نے اپنے رب کا عصیان کیا اور بہک گیا۔ان کو شیطان نے پھسلانا چاہا۔اور پھر ان کو جہاں وہ تھے وہاں سے نکال دیا۔