تصدیق براھین احمدیہ — Page 114
۱۱۴ تصدیق براہین احمدیہ الارض و شجرها و ثمرها - فاخبر انه فى الارض - ثم قال و نصب الفردوس فانقسم على اربعة انهار سيحون و جيحون و دجله و فرات و قال منذر بن سعيد ـ هذا وهب بن منبة يحكى ان آدم علیه السلام خلق في الارض وفيهـا ســكــن و فيها نصب له الفردوس و انه كان بعدن ان الاربعة الانهار انقسمت من ذالك النهر الذى كان يسمّى فردوس آدم و تلك الانهار معنا فى الارض لا اختلاف بين المصلين في ذالك فاعتبروا یا اولی الالباب اور اِهْبِطُوا کا لفظ ایسا ہے جیسا اِهْبِطُوا مِصْرًا میں ہے۔ہاں تو ان دلائل پر بھی غور کرنی چاہیئے (۱) جنت الخلد جس میں نیک لوگ موت کے بعد داخل ہوں گے اس کی صفت میں قرآن کریم فرماتا ہے۔وہ دار المقام ہے وہ ایسی جگہ ہے جہاں داخل ہو کر پھر لوگ نہ نکلیں گے۔اور آدم علیہ السلام جس جنت میں رہے وہاں سے نکالے گئے۔(۲) جنت الخلد دار تکلیف نہیں اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے وہاں درخت کے نزدیک جانے سے ممانعت اور شرعی تکلیف ان پر قائم تھی۔(۳) جنت الخلد کو اللہ تعالیٰ دار السلام فرماتا ہے۔اور آدم اور حوا علیہما السلام جہاں رہے وہاں سے سلامت نہ نکلے۔وہ جگہ ان کے لئے دارالسلام نہ ہوئی۔(۴) جنت الخلد کا نام دار القرار ہے اور جہاں آدم علیہ السلام اقامت پذیر تھے وہ مقام ان کے واسطے دار الزوال ہو گیا۔(۵) جنت الخلد کی تعریف میں آیا ہے وَ مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ (الحجر:۴۹) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے وہاں سے نکلے یا نکالے گئے۔(1) جنت الخلد کی نسبت آیا ہے۔لَا يَمَتُهُمْ فِيهَا نَصَب (الحجر:۴۹) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے یا مقیم ہوئے وہاں ان کو تکلیف پہنچی۔لے اس میں ان کو کوئی کوفت نہ ہوگی۔