ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 39
۳۹ کی صلاحیتوں اور اس کے تدبر اور تفکر کی قوتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور جو لوگ قرآن عظیم کی خدمت واشاعت کے ساتھ کچھ نہ کچھ مناسبت رکھتے تھے ان کا ذہن غیر معمول طور پر قرآن مجید کے اردو تراجم کی طرف منتقل ہوگیا یہی وجہ ہے کہ شہداء یعنی حضور کے دعوئی ماموریت سے لیکر آج تک اردو تراجم قرآن اس کثرت سے ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر اس سے قبل نہیں ملتی اور اس مبارک زبان کا دامن مالا مال ہوگیا ہے۔بایں ہمہ یہ دھونی سراسر باطل ہے کہ کسی ترجمہ نے قرآنی الفاظ میں۔پوشیدہ سب غیر محدود حقائق و معارف اور لا تعداد اسرار و عوامض اردو زبان میں سمو دیئے ہیں۔وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ خدا کے پاک کلام کا ترجمہ ایسا رواں سلیس اور شگفتہ ہو جو قرآنی روح اور عربی مزاج سے قریب تر ہونے کیساتھ ساتھ لفظی اور با محاورہ ترجمہ کا حسین امتزاج ہو اور جس سے خدا تعالیٰ کے اس پر شوکت اور پر جلال اور شاہی کلام کے تحت دلوں پہ قائم ہو جائیں اور روح بے اختیار ہو کر حضرت احدیت کے آستانہ پر نہ پڑے۔یہ کمال تاثیر حضرت امام مهدی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تفسیر صغیر کے اُردو ترجمہ کو حاصل ہے۔ترجمه تفسیر سی کی کوثر و تسنیم سے ڈھلی ہوئی پاکیزہ اور عام فہم زبان کے چند نمونے ذیل میں ملاحظہ ہوں :-