تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 88 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 88

تاریخ احمدیت۔جلد 28 88 سال 1972ء کو دیکھنے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے اور پھر اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔71 مالی قربانی کا شاندار مظاہرہ گذشته سال صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے محاصل خالص کا بجٹ مشرقی پاکستان کے چندہ اور اراضیات سندھ کی آمد کی کمی منہا کر کے 37,41,170 روپے پر مشتمل تھا۔پاکستان کی مخلص احمدی جماعتوں نے سخت ناموافق حالات کے باوجود نہ صرف یہ بجٹ پورا کردیا بلکہ 33,858 روپے کی زائد رقم اپنے مقدس و محبوب امام کے حضور پیش کر دی۔جس پر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۲ مئی ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی جماعت کے مخلص افراد کو اپنے درخت وجود کی شاخیں قرار دیا ہے۔ان شاخوں نے مالی قربانی اور ایثار کا جو خوشکن نمونہ پیش کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اے مسیح محمدی اور مہدی معہود ( علیہ السلام) کے درخت وجود کی شا خو! جو ثمراتِ حسنہ سے لدی اور جھکی ہوئی ہو، میرے رب کریم کا تم پر سلام ہو ! ( آمین ) - 72 احمدی ڈاکٹروں کو ایک لطیف نصیحت حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مورخہ ۱۹ مئی ۱۹۷۲ء کو بصیرت افروز خطبہ جمعہ ارشادفرمایا جس میں حضور انور نے احباب جماعت کو فرمایا کہ وہ اس نئے مالی سال میں اپنی محنت تد بیر اور دعا کو انتہاء تک پہنچا دیں تا جنت کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں۔حضور انور نے دوران خطبہ شفا کے بارہ میں فرمایا کہ شفاد یا اللہ کے اختیار میں ہے۔حضور انور نے اس ضمن میں احمدی ڈاکٹروں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔جرمنی میں ایک بوڑھے ڈاکٹر تھے جنہوں نے آپریشن کر کے میرے گلے سے غدود نکالے تھے اور یہ غالباً ۱۹۳۶ء کی سردیوں کی بات ہے۔میں حیران ہو گیا انہوں نے اتنے امیر ملک میں اپنی فیس صرف دو روپے رکھی ہوئی تھی مگر ان ساٹھ روپے فیس لینے والے ظالم ڈاکٹروں سے وہ زیادہ کما رہے تھے کیونکہ وہ خدمت خلق کے جذبہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو زیادہ حاصل کر رہے تھے۔ان ساٹھ