تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 71
تاریخ احمدیت۔جلد 28 71 سال 1972ء تو پہاڑ کی ایک غار میں ان کو لے گیا۔حضرت اسامہ نے اس کا پیچھا کیا۔جب مرد اس غار تک پہنچا وہاں اپنا ریوڑ چھوڑا اور صحابہ کی طرف آیا ، کہا السلام عليكم أشهد أن لا اله الا الله و أن محمدا رسول اللہ۔حضرت اسامہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے اونٹ اور ریوڑ کی وجہ سے اسے قتل کر دیا۔نبی کریم صلی سیستم جب حضرت اسامہ کو بھیجتے تو پسند کرتے کہ حضرت اسامہ کی تعریف کی جائے اور اس کے ساتھیوں سے اس کے بارے میں پوچھتے۔جب یہ صحابہ لوٹے تو صحابہ سے اس کے بارے میں سوال نہ کیا۔قوم حضور صلی شیتم سے گفتگو کرنے لگی اور عرض کی یا رسول اللہ مالی ای ام کاش آپ اسامہ کو اس وقت دیکھتے جب کہ انہیں ایک آدمی نے کہالا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو حضرت اسامہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر دیا جبکہ حضور ملی پیام ان صحابہ سے اعراض کر رہے تھے۔جب انہوں نے زیادہ باتیں کیں تو حضور صلی ایم کیو ایم نے اپنا سر حضرت اسامہ کی طرف اٹھایا، پوچھا تیرا اور لا الہ الا اللہ کا کیا معاملہ ہوگا۔حضرت اسامہ نے عرض کی اس نے یہ کلمہ جان بچانے کے لیے کہا تا کہ وہ بچ جائے۔رسول اللہ صلی سی ایم نے فرما یا تو نے اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا تا کہ تو دیکھ لیتا۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور خبر دی کہ حضرت اسامہ نے اس کو اونٹ اور ریوڑ کی وجہ سے قتل کیا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عرض الحیاة الدنیا کے الفاظ فرمائے ہیں۔جب یہ الفاظ فرمائے فمن اللہ علیکم تو ان کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر رحمت فرمائی۔حضرت اسامہ نے قسم اٹھائی کہ اس آدمی کے بعد وہ کسی ایسے آدمی کو قتل نہیں کریں گے جو لا الہ الا اللہ کہتا ہوگا۔اور اس کے بعد رسول اللہ صلی سی ای ایم سے انہوں نے یہ رویہ نہ دیکھا۔59 بیقی و ابو نعیم نے قبیصہ بن ذریب سے روایت کی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے مشرکین کے لشکر پر حملہ کیا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں میں سے ایک شخص مشرکوں کے ایک آدمی سے ملا۔وہ بھاگا ہوا تھا جب مسلمان نے ارادہ کیا کہ تلوار اٹھا کر اسے مارے تو وہ کہنے لگا ”لا الہ الا اللہ تو اس مسلمان نے اسے نہ چھوڑا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔اس کے بعد اس کے قتل کی بابت مسلمان کے دل میں خدشہ پیدا ہوا اور اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کے دل میں جھانک کر دیکھ لیا تھا۔کچھ دنوں کے بعد وہ قاتل شخص فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا۔جب دوسرا دن ہوا تو وہ زمین پر باہر تھا اس کے گھر کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ واقعہ بیان کیا۔آپ نے فرمایا اسے دفن کر دو۔تو انہوں نے اسے دفن کر دیا۔پھر جب دوسرا دن ہوا تو دیکھا کہ وہ