تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 60
تاریخ احمدیت۔جلد 28 60 سال 1972ء نہ لوگ ریڈیو اور ٹیلیویژن پر بحیثیت ادارہ آنکھیں بند کر کے تنقید کرنے کے مجاز ہیں نہ اہل ہے اور نہ اس کی اجازت ہے۔ہر چیز بنیادی طور پر خیر و برکت کا موجب ہے ہم اس کو غلط راہوں پر چلا کر اپنے لئے بدی کے سامان پیدا کر لیتے ہیں۔اب یہ ٹیلیویژن فی الحقیقت بہت اچھی چیز ہے جب میں اپنی سکیمیں بتاتا ہوں تو بڑا مزہ آتا ہے لیکن آج کے ٹیلیویژن سے اس قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔جب ہمارے ہاتھ میں ریڈیو اور ٹیلیویژن آ گیا تو ہم دنیا کو بتا ئیں گے کہ ٹیلیویژن سے کیا کیا نیکی کے کام اور کیا کیا علمی ترقی کے کام اور اخلاقی اصلاح کے کام لئے جا سکتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ مخرب الاخلاق ہو وہ اخلاق پرحسن چڑھانے کا موجب بن سکتا ہے۔وہ علم میں ترقی کا موجب بن سکتا ہے۔وہ تقویٰ کی راہوں کو زیادہ نمایاں کر کے بنی نوع انسان کے سامنے رکھنے کا موجب بن سکتا ہے۔پس ہم جو ریڈیو سٹیشن لگا ئیں گے تو اس سے انشاء اللہ یہ کام لئے جائیں گے۔اس وقت جو سب سے بڑا ریڈیو سٹیشن ہے وہ میرے خیال میں روس میں ہے۔دل یہ کرتا ہے کہ اپنی زندگی میں (موجودہ نسل کی زندگی میں ) کم از کم اتنا بڑا براڈ کاسٹنگ اسٹیشن ضرور لگ جائے۔ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کے خلاف جو لوگ باتیں کرنے والے ہیں یا مذہب کے خلاف باتیں کرنے والے ہیں۔ان سے زیادہ طاقتور صوتی لہریں توحید باری تعالیٰ کو دنیا میں پھیلانے والی اور قرآن کریم کی شعاعوں کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے والی ہوں۔یہ ایک بڑی خوشکن خبر ہے جس میں میں آج آپ کو شریک کرتا ہوں تا کہ آپ پھر میرے ساتھ اس مہم کو کامیاب انجام تک پہنچانے کی دعاؤں میں شرکت کے قابل ہو جا ئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن جلد دکھائے جب دنیا کے کونے کونے میں خدا اور خدا کے رسول کا نام بلند ہورہا ہوگا۔اس سکیم کے پہلے مرحلے میں میں بتاتا ہوں کہ خدا کرے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں اور مشرق وسطی کے ملکوں میں عربی میں ہم ان سے باتیں کریں اگر کہیں پابندیاں ہیں ناسمجھی کی وجہ سے اور بزدلی کے نتیجہ میں اور کم بختی کے باعث