تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 44 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 44

تاریخ احمدیت۔جلد 28 44 سال 1972ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا طلباء جامعہ احمدیہ سے روح پرور خطاب جامعہ احمدیہ کی الجميعة العلمیة کے تحت اردو، انگریزی اور عربی زبانوں میں سالانہ تقریری مقابلے کرائے جاتے ہیں۔امسال یہ مقابلے ۳۰،۲۹،۲۸مارچ کو منعقد ہوئے جن کے اختتام پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے اور پھر اپنے روح پرور خطاب سے نوازا۔حضور نے ارشاد فرمایا:۔ہم پر قرآن کریم کے بارے میں مختلف قسم کے اعتراضات ہوتے ہیں۔ایک قسم کے اعتراضات کا تعلق تو لفظی حفاظت سے ہے۔یہ امر واقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو اس کی لفظی حفاظت خود فرمائی اور لاکھوں حفاظ پیدا کر دیئے۔جامعہ احمدیہ کے طلباء کو بھی اپنے طور پر قرآن کریم حفظ کرنا چاہیے تاکہ لفظی حفاظت کے جہاد کے ثواب میں شریک ہوسکیں۔معنوی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجددین کا سلسلہ شروع فرمایا اور بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما کر قرآن کریم کی معنوی حفاظت فرمائی۔آپ ثریا سے قرآن کریم واپس لائے۔اس لئے آپ کی کتب کا مطالعہ اور تفسیر کا مطالعہ بار بار کرتے رہنا چاہیے۔تیسری قسم کے اعتراضات ظاہری علوم کے ماہرین کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن یہ ان کی کوتاہ نہی ہے اور قرآنی علوم کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے حالانکہ قرآن کریم بنیادی طور پر تمام علوم کا سرچشمہ ہے اس لئے ان کو اس حقیقت سے روشناس کرانا ہمارا کام ہے۔قرآنی معجزات پر اعتراض کی صورت میں ہمارے مبلغین اور طلباء جامعہ احمدیہ کو فکر کرنا چاہیے کیونکہ ہر اعتراض کے توڑ کے لئے ایک ہی ہتھیار کام نہیں دیتا۔ایسے اعتراضات کا جواب ہمیں معجزات سے دینا ہے اس لئے ہر مبلغ کا خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا تعلق ہو کہ جب اسے اس قسم کے اعتراضات کا سامنا ہو خدا تعالیٰ خود اس کی دستگیری کرے اور اپنے کلام سے اس کی تسلی فرمائے۔ہر مبلغ کا خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل تعلق ہونا چاہیے تا کہ ہر میدان میں وہ کامیاب رہے۔ہر جگہ کتا ہیں یا نوٹس نہیں ہوتے لیکن خدا تعالیٰ ہر وقت سننے والا ہے۔دعائیں کریں اور اسے اپنا یار جانی