تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 43 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 43

تاریخ احمدیت۔جلد 28 43 سال 1972ء کی بڑی بڑی طاقتوں نے ہلاکت اور بربادی کا موجب بنارکھا ہے اور جس نے دنیا کا امن و چین چھین رکھا ہے۔“ حضور نے فرمایا:۔پس اے میری عزیز بچیو! بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے آپ پر۔آپ نے پوری کوشش سے دنیوی علوم حاصل کرنے ہیں اور کسی سے بھی علم میں پیچھے نہیں رہنا۔مگر آپ کی ہر کوشش کی جہت ایسی ہونی چاہیے جو آپ کو خدا کے قریب کر دے نہ کہ اس سے دور لے جانے کا موجب ہو۔آپ کا زاویہ نگاہ درست ہونا چاہیے۔اگر آپ کی نگاہ کے شیشے میں کوئی نقص نہ ہوگا تو آپ خدا تعالیٰ کی ہر خلق اور ہر چیز میں اس کے حسن واحسان کے جلوے دیکھ سکتی ہیں کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ہر دن جو چڑھتا ہے اس میں ہم اپنے خدا کے نئے سے نئے جلوے دیکھ سکتے ہیں۔آپ نے صرف خود ہی حقیقی علم و عرفان حاصل نہیں کرنا بلکہ دنیا کے بچوں کو بھی علم سکھانا ہے۔پس بڑی ذمہ داری ہے جو آپ پر عائد ہوتی ہے۔خدا کرے کہ آپ اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے کی توفیق پائیں۔پس اپنے زاویہ نگاہ کو درست رکھتے ہوئے علم سیکھو اور بڑھ چڑھ کر سیکھو اور پھر اسے دنیا میں پھیلاؤ اور اس طرح خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کے وارث بنتے چلے جاؤ۔“ حضور نے اپنی تقریر کے دوران آئندہ سال بی ایس سی کلاسز کے اجراء کا بھی اعلان فرمایا۔تقریر کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی جس کے بعد حضور اس جگہ تشریف لے گئے جہاں پر مردوں کے لئے دعوت عصرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔یہاں حضور نے اپنے خدام کی معیت میں چائے نوش فرمائی اور پھر بذریعہ کا رواپس تشریف لے گئے اور اس طرح یہ تقریب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔حضور کے تشریف لے جانے کے بعد رات گئے تک مستورات بڑے شوق سے سائنس بلاک دیکھتی رہیں اس عمارت کو اور اس سے ملحق میدان میں درختوں کو اس موقعہ پر خوبصورت رنگ برنگ کے برقی قمقموں سے بڑے سلیقے سے سجایا گیا تھا جس کی وجہ سے بہت خوبصورت منظر معلوم ہوتا تھا۔اس تقریب کے انتظامات میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے علاوہ جامعہ نصرت کے سٹاف اور طالبات نے بھی پرنسپل مسز فرخنده اختر شاہ صاحبہ کی زیر نگرانی بھر پور حصہ لیا۔34