تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 433
تاریخ احمدیت۔جلد 28 433 سال 1972ء ہالینڈ جماعت احمدیہ ہالینڈ نے ۸ نومبر ۱۹۷۲ء کو عید الفطر کی تقریب پوری شان اور وقار کے ساتھ منائی۔جس میں احمدیوں کے علاوہ ترکی ، مصر، پاکستان، مراکش، لیبیا، شام، تیونس، انڈونیشیا، سورینام اور ہندوستان کے مسلمان بھائیوں نے بھی شرکت فرمائی۔کئی غیر مسلم ڈچ معززین بھی تشریف لائے۔مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل انچارج احمد یہ مشن ہالینڈ نے خطبہ عید سے قبل سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا حسب ذیل مبارک پیغام پڑھ کر سنایا۔دد مگر می السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ سب بھائیوں اور بہنوں کو عید مبارک ہو۔ہماری حقیقی عید یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انتہائی خادم بنیں۔بنی نوع انسان کی خدمت کریں۔ہمارے وجود، ہماری ہستی اور ہمارے اعمال میں دنیا کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے نظر آئیں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔اسلام غالب آئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انسان کے دل میں بیٹھ جائے۔خدا کرے ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر انتہائی قربانیاں دینے والے ہوں اور ہمیں حقیقی خوشیاں میسر آتی رہیں۔127 نومبر ۱۹۷۲ء سے جنوری ۱۹۷۳ء کے دوران مشن کی تبلیغی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔اس عرصہ میں مولوی عبد الحکیم صاحب اکمل نے ملک کے طول و عرض کی آٹھ مختلف سوسائٹیوں میں کامیاب تقاریر کیں۔کئی وفود تک پیغام حق پہنچایا۔مختلف اہم شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں۔مشن ہاؤس میں جماعتی اجلاس با قاعدگی کے ساتھ منعقد ہوئے۔اس ضمن میں مولوی عبد الحکیم صاحب اکمل کی ایک مفصل سہ ماہی رپورٹ الفضل 9 اور ۱۰ مئی ۱۹۷۳ء میں شائع شدہ ہے۔جس کا ایک حصہ انہی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں:۔اس عرصہ میں شمالی ہالینڈ کے بعض علاقوں سے آغاز ہوا۔چنانچہ سب سے پہلے اس علاقہ کے شہر آمر سفورٹ کی ایک INTER CHURCH SOCIETY میں خاکسار کو تقریر کے لئے مدعو کیا گیا۔اس جگہ کیتھولک چرچ اور پرائسٹنٹ چرچ کے ملے جلے لوگ جمع تھے۔خاکسار بذریعہ ریل