تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 431
تاریخ احمدیت۔جلد 28 431 سال 1972ء جناب الحاجی ٹانکو یا کا سائی ہیں۔ایک مختصر اور سادہ تقریب میں مکرم مولوی محمد اجمل صاحب شاہد امیر جماعت احمدیہ نائیجیریا نے الحاجی ٹانکو یا کا سائی کمشنر برائے مالیات کی خدمت میں قرآن کریم انگریزی کے ایک سوبارہ نسخے پیش کئے جنہیں ہوٹل کے تمام رہائشی کمروں میں رکھا جائے گا۔مکرم امیر صاحب نے اپنے ایڈریس میں جناب کمشنر صاحب کو قرآن کریم کی اشاعت کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی مساعی سے متعارف کرواتے ہوئے کہا کہ احمد یہ مشن نائیجیریا نے تمام ملک میں قرآن کریم کی کثرت سے اشاعت کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں تمام تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور ہوٹلوں کو جہاں کہ ایک لمبے عرصہ سے صرف بائیبل ہی ایک مستقل فیچر ہے قرآن کریم کی کا پیاں مفت مہیا کی جائیں گی تاکہ ملک کی اکثریتی آبادی یعنی مسلمان اپنی مذہبی کتاب سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں اور ایک غیر جانبدار شخص بآسانی دونوں کا تقابل کرنے کے قابل ہو۔اس مقصد کے لئے آئندہ چند سالوں میں تمام ملک میں قرآن کریم کو پھیلا دیا جائے گا تاکہ ہر ایک خواہش مند کو قرآن کریم بآسانی مہیا ہو سکے۔جناب کمشنر صاحب نے اپنی جوابی تقریر میں اس ہدیہ کے لئے احمد یہ مشن نائیجیریا کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات اور قرآن کریم کی اشاعت کے سلسلہ میں مساعی کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ میں ہوٹل کی انتظامیہ کے چیئر مین کی حیثیت سے یہ یقین دلاتا ہوں کہ قرآن کریم کی کا پیوں کو بحفاظت ہر کمرہ میں رکھا جائے گا۔انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ہوٹل میں ٹھہرنے والے مہمان خصوصاً مسلمان اس ہدیہ سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔اس کے بعد دعا کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔اس موقع پر جماعت احمدیہ کانو کے منتخب افراد اور مکرم مولوی منیر احمد صاحب عارف انچارج نادرن ریجن نیز پریس کے نمائندگان نے شرکت کی اور اخبارات نے اس خبر کو تصاویر کے ساتھ شائع کیا 122 یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس ہوٹل کے لئے قرآن کریم کی کاپیوں کی پیشکش کا نو کے ایک مخیر دوست الحاجی بیلو نے کی۔123 ایک قابل تقلید نمونہ سید نا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ہوٹلوں میں قرآن کریم رکھوائے جانے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا۔حضور انور کی اس مبارک خواہش کی تعمیل میں جب نائیجیریا کے مقامی احباب کے سامنے یہ