تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 34 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 34

تاریخ احمدیت۔جلد 28 34 سال 1972ء فرماتا ہے لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم ( النور : ۵۶) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ میں بنا تا ہوں۔اب جس کے متعلق قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بناتا ہوں اس کے متعلق تو کہتے ہیں کہ خدا نہیں بناتا اور جس کے متعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا نہیں بناتا اس کے متعلق کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بناتا ہے۔حالانکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم سے زائد کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے ور نہ قرآن کریم کامل اور مکمل نہیں ٹھہرتا۔جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ مجدد اللہ تعالیٰ بناتا ہے یا مبعوث کرتا ہے تو آپ کا یہ ارشاد لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم کی تفسیر تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فرمایا مجدد بھی ایک خلیفہ ہے اور خلیفہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے میں بناتا ہوں۔انسان نہیں بناتا کیونکہ جو خلیفہ آئے گا وہ خدا بنائے گا دوسرے یہ کہ وہ لوگ جنہیں ہمارے دربار سے اجازت نہیں ملی تب بھی خلافت کی بحث میں الجھتے ہیں۔ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخر یہ کون کہے گا کہ یہ مجدد ہے۔اس کو خدا تعالیٰ نے مجدد بنایا ہے۔کیا یہ بتانے کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے جو انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی نہیں آئے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگے گئے لیکن انکار کر دیا گیا کہ اس غرض کے لئے نہیں آئیں گے۔کیا کسی زمانہ میں یا کسی وقت میں انسانوں کا کوئی مجموعہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے کہ جس کے متعلق وہ کہیں گے کہ خدا نے مجدد بنایا ہے وہ مجدد بن جائے گا۔قرآن کریم میں تو ہمیں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی۔پھر کون کہے گا ؟ وہ خود کہے گا جب کہے گا۔بہتوں نے تو کہا ہی نہیں کہ ہم مجدد ہیں۔جنہوں نے کہا کہ ہم مجدد ہیں انہوں نے بھی یہ کہا کہ خدا نے انہیں بتایا ہے کہ میں نے تمہیں مجدد بنایا ہے۔پس اگر خلیفہ کہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے تو پھر؟ کیا تم فیصلہ کرو گے اس نے صحیح کہا ہے یا غلط۔فیصلے کرنے کے اصول ہیں یعنی کوئی شخص جھوٹ بھی بول سکتا ہے مگر اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصول مقرر فرمائے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے جب یہ فرمایا تھا کہ نہ انجمن مجھے خلیفہ بنا سکتی ہے اور