تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 427
تاریخ احمدیت۔جلد 28 427 سال 1972ء تبشیر کی ہدایت پر پہلی بار ایک لوکل مشنری الحاجی شیخونی صاحب وہاں تین چار ماہ کے لئے بھجوائے گئے جنہیں ایک ماہ کے مختصر عرصہ میں ۱۶ سعید روحیں عطا ہوئیں۔114 جون تا اگست ۱۹۷۲ء کے عرصہ میں نائیجیریا کے تین سو پانچ افراد نے احمدیت قبول کی۔115 ۱۹ جولائی ۱۹۷۲ء کو جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے نائیجیریا میں غانا کے ہائی کمشنر جناب کرنل ایس میگل اشانٹے صاحب سے ملاقات کی۔وفد کی قیادت مولوی محمد اجمل صاحب شاہد نے کی۔مولوی مجید احمد صاحب سیالکوئی مبلغ نائیجیریا ، ڈاکٹر عمر الدین صاحب، وزیری عبدو، الفا الیس بی گیوا صاحب اور معلم حبیب صاحب بھی شامل وفد تھے۔مولوی محمد اجمل صاحب شاہد نے ان کو قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ اور دیگر اسلامی لٹریچر پیش کیا جو انہوں نے بخوشی قبول کیا۔انہوں نے اسلام کے نظریہ اخلاق، حیات بعد الموت اور انسان کی پیدائش کی غرض و غایت کے متعلق سوالات کئے جن کے جوابات ممبران وفد کی طرف سے دئے گئے۔سوال و جواب کا یہ دلچسپ سلسلہ قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔116 ۲۰ جولائی ۱۹۷۲ء کو نائیجیریا میں سیرالیون کے ہائی کمشنر جناب ڈاکٹر ولیم ایچ فٹکس جان صاحب سے جماعت احمدیہ نائیجیریا کے ایک خصوصی وفد نے ملاقات کی۔وفد کے ممبران کے نام یہ ہیں۔مولوی محمد اجمل صاحب شاہد (امیر وفد ) ، ایس او بکری صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ نائیجیریا، الفا ایس بی گیوا صاحب، مولوی مجید احمد صاحب مبلغ نائیجیریا، وزیری عبد و صاحب،معلم حبیب صاحب۔امیر جماعت کی طرف سے ہائی کمشنر صاحب کو قرآن مجید معہ انگریزی ترجمہ اور دیگر کتب پیش کی گئیں۔موصوف نے قرآن مجید کا تحفہ قبول کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ میرا پہلا موقعہ ہے کہ مجھے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا موقعہ ملے گا۔اس لئے میں اس کو جماعت کی طرف سے انتہائی قیمتی اور شاندار تحفہ خیال کرتا ہوں۔اس کے بعد یہ بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا لمبا عرصہ عیسائی پادری کے طور پر گزارا ہے۔اس پر اسلام اور عیسائیت کے باہمی موازنہ اور اسلامی تعلیمات کی برتری و فوقیت کے موضوع پر وفد کے ارکان کی طرف سے تفصیل پیش کی گئی جو موصوف نے نہایت دلچسپی سے سنی اور متعدد سوالات کئے جن کے جوابات امیر وفد نے دئے۔سفیر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جب دو سال قبل امام جماعت احمد یہ سیرالیون میں تشریف لائے تھے تو یہ ایک نہایت ہی شاندار اور پر رونق موقعہ تھا اور ان کو بھی امام جماعت احمدیہ سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا۔وفد کی یہ ملاقات