تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 33
تاریخ احمدیت۔جلد 28 33 سال 1972ء اول نے کی وہ بھی ماننی پڑے گی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول آپس کے جھگڑے اور اختلافات کے متعلق فرماتے ہیں:۔سنو! تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔( ان میں سے میں نے دو کو لیا ہے جن کا یہاں تعلق ہے ) اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلے کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔“ پھر فرماتے ہیں دوسرے وہ یعنی بعض ایسے مسائل جو تفصیل کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور آئندہ سامنے آنے والے تھے کیونکہ بعض مسائل سلسلہ خلافت شروع ہوتے ہی سامنے آ جاتے ہیں۔سلسلہ خلافت شروع ہونے سے قبل ظاہر نہیں ہوتے مثلاً یہی مسئلہ کہ خلیفہ وقت اور جماعت احمدیہ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اس کا ایک یہ حل ہے جو میں نے پیش کیا اور ایک رنگ میں اور مجھ سے پہلے آنے والوں نے کہا اپنے اپنے رنگ میں۔چنانچہ جب مجھ سے ۱۹۶۷ء میں پوچھا گیا کہ آپ کا تعلق جماعت احمدیہ سے کیا ہے؟ تو میں نے کہا یہ سوال غلط ہے۔اس لئے کہ میں اور جماعت احمد یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔انکو علیحدہ علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔غرض آپ (حضرت خلیفہ اسیح الاول) نے فرمایا :۔( دوسرے وہ ) جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی۔ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ان پر رائے زنی نہ کرو۔25 پھر ایک اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے فرمایا:۔مجھ تک یہ رپورٹ بھی پہنچی ہے کہ بعض بیوقوف کمزور ایمان والے یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ مجد دتو اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور خلیفہ انسان بناتا ہے۔اس بارہ میں موٹی بات تو یہ ہے کہ مجددکون بناتا ہے اور کون نہیں بناتا اس کے متعلق ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملتا ہے۔قرآن کریم میں اس کے متعلق کوئی ارشاد نہیں۔سارے قرآن کریم میں مجدد کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔خلیفہ کون بناتا ہے اور کون نہیں بناتا، اس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ نور میں