تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 419
تاریخ احمدیت۔جلد 28 419 سال 1972ء اور جلسہ گاہ کو خوبصورت قطعات وغیرہ سے مزین کیا گیا۔افتتاحی تقریب کا پروگرام زیر صدارت برادرم مکرم حنیف جواہر صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ماریشس ہوا۔مطر کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو برادرم مکرم صدیق احمد صاحب منور مبلغ سلسله نے کی۔بعدہ مکرم حنیف جواہر صاحب نے اپنا خوش آمدید کا ایڈریس پڑھا جس میں جماعت کی طرف سے معزز مہمانوں اور جملہ حاضرین کو اھلاً و سھلاً و مرحبا کہا اور مختصر اس الہی جماعت کے قیام کی غرض و غایت اور اس کے صلح نظر پر روشنی ڈالی نیز تریو لے جماعت کے قیام اور ابتدائی مسجد وغیرہ کی تعمیر کا بھی مختصراً ذکر کیا۔جملہ قربانی کرنے والے اور انتھک کام کرنے والے رضا کا رخدام وانصار کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے بہترین جزائے خیر کی دعا کی۔اس خوش آمدید کے ایڈریس کے بعد خاکسار نے اسلامی نظام عبادت کی سادگی ، فوقیت اور اکملیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی معاشرہ میں مساجد کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی۔مساجد کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کرنے کے بعد خاکسار نے اپنی مدد آپ کے اصول اور رضا کارانہ جذبہ سے کام کرنے والے مخلصینِ جماعت اطفال، خدام، انصار اور لجنہ اماء اللہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ایک معمر مخلص دوست بھائی علی حسین صاحب بھگیلو نے مسجد کے ایک حصہ کے لئے لوہے کے دروازے اور کھڑکیاں بغیر اجرت کے بنا کر دیئے۔اسی طرح بعض اور مخلصین نے اپنی طرف سے باہر کی دیوار کے لئے تین پائپ کے دروازے عطیہ کے طور پر دیئے خاکسار کے بعد مکرم حمید پیر بخش صاحب صد ر جماعت احمدیہ تریولے نے مقامی جماعت کی طرف سے جماعت کے احباب اور دیگر سب دوستوں کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے کسی بھی رنگ میں مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔افتتاحی دعا سے پہلے چار نمایاں کارکردگی کرنے والے دوستوں کی خدمت میں تحائف پیش کئے گئے جو پاکستان اور فرانس کے سفارتی نمائندوں کے ذریعہ دلوائے گئے۔اجتماعی دعا کے بعد حاضرین مسجد کے بیرونی دروازہ کے پاس جمع ہوئے۔مکرم حنیف جواہر صاحب پریذیڈنٹ جماعت نے روایتی ربن کاٹا اور خاکسار نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے مسجد کا سب سے بڑا دروازہ کھولا اور یوں مسجد احمد یہ عمر تریولے کا افتتاح عمل میں آیا۔hos آیا۔“ نائیجیر یا 105 پہلے احمد یہ میڈیکل سنٹر کا شاندار افتتاح