تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 418 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 418

تاریخ احمدیت۔جلد 28 418 سال 1972ء کے فضل سے سینکڑوں احمدی مردوں اور عورتوں نے اس تحریک پر لبیک کہا اور بعض دوستوں نے تو سینکڑوں روپے اس مد میں چندہ دیا۔بعض غیر از جماعت اور غیر مسلم اداروں نے بھی عطا یا دیئے۔رضا کارانہ طور پر تعمیر کے سارے کام کی نگرانی اور کام کروانے کی ذمہ داری ہمارے جواں ہمت اور مخلص دوست بھائی احمد ڈو من صاحب نے اپنے ذمہ لی۔شروع میں چند معمار اجرت پر کام کرتے رہے جبکہ مزدوری کا کام مقامی جماعت کے نوجوان مفت کرتے رہے۔وقار عمل یوں تو بیسیوں کی تعداد میں منائے گئے اور جان توڑ کام ہوتا رہا مگر دو وقار عمل بڑی نوعیت کے تھے۔پہلا وقار عمل مسجد کی چھت کے بیم پر کنکریٹ ڈالنے کے لئے اارا پریل ۱۹۷۱ء کو منایا گیا۔اس کے لئے ۳۰ خدام روز بل سے تریو لے گئے اور دوسرا وقار عمل ۲ مئی ۱۹۷۱ء کو مسجد کی ساری چھت پر نٹل ڈالنے کے لئے منایا گیا۔یہ دن احباب جماعت کے لئے ایک جشن کی حیثیت رکھتا تھا۔۱۵۰ / احباب جملہ جماعتوں سے ۱۴ موٹر کاروں پر شرکت کے لئے آئے اور مسلسل چھ سات گھنٹے کام کر کے اس کشادہ مسجد کی چھت کو مکمل کر دیا۔اس کے بعد بقیہ کام کبھی تیز رفتار سے اور کبھی دھیمی رفتار سے مگر پیہم اور مسلسل طور پر جاری رہا ۲۷۰ دسمبر ۱۹۷۲ ء افتتاح کا دن مقرر کیا گیا اور اس کے لئے مہمان خصوصی کے طور پر جناب گورنر جنرل صاحب ماریشس اور وزیر اعظم صاحب ماریشس کی خدمت میں شرکت کی دعوت دی گئی۔گورنر جنرل صاحب موصوف نے تو اس دن ایک دوسری مصروفیت کی بناء پر معذوری ظاہر کردی مگر جناب وزیر اعظم صاحب نے بخوشی اس تقریب سعید میں شرکت کر نا منظور کر لیا۔( تقریب کے روز گورنر جنرل صاحب کی اچانک وفات کے باعث وزیر اعظم صاحب بھی تقریب میں تشریف نہ لا سکے۔چنانچہ افتاحی تقریب کا پروگرام زیر صدارت حنیف جواہر صاحب پریزیڈنٹ جماعت احمد یہ ماریشس ہوا۔) ڈسٹرکٹ کونسل نما پو کے افسران نے بھی از راه نوازش ہماری درخواست پر چند روز کے اندراندر مین روڈ سے مسجد کو آنے والی برانچ روڈ کو اعلیٰ رنگ میں تارکول سے مرمت کر دیا اور مسجد سے ملحقہ دوسری سڑک کے ضروری حصہ کو بھی پختہ بنا دیا جس سے مہمانوں کی موٹر کاروں کی آمد ورفت میں بہت سہولت اور آرام ہو گیا۔افتتاحی تقریب کی تیاری کے ضمن میں خاص دعوتی کارڈ چھپوا کر سرکاری افسران، سفارتی نمائندوں اور معززین ملک کو بھجوائے گئے۔اسی طرح ریڈیو اور ٹیلیویژن پر متعدد بار افتتاح کے پروگرام کی خبر نشر ہوئی اور اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ایک کشادہ شامیانے اور سٹیج وغیرہ کا انتظام کیا