تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 402
تاریخ احمدیت۔جلد 28 402 سال 1972ء Standard, Nairobi میں کوالے ایسٹ (Kwale East) کے نمائندے اور ممبر آف پارلیمنٹ مسٹر کے موامزاندی Mr۔K۔Mwamzandi کا یہ بیان شائع ہوا کہ اسلام میں غیر مسلم عورت سے شادی کی اجازت نہیں مگر داشتہ (بے نکاحی عورت ) رکھنے کی اجازت ہے۔مسٹر موامزاندی۔Mr۔K Mwamzandi ڈپٹی سپیکر بھی تھے۔ملک کے ایک ذمہ دار اور مقتدر شخص کے اس بیان پر مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے نیروبی کے اخبار East African Standard مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۷۲ء میں لکھا کہ کو الے کے نمائندہ کی یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور اس تعلق میں آیات قرآنیہ درج کرتے ہوئے نهایت مبسوط اور مسکت جواب تحریر فرمایا۔96 اس پر ایک عیسائی عورت نے لکھا کہ عرب اور دیگر ممالک مسلمان عملاً داشتہ رکھتے رہے ہیں۔اس کے جواب میں مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق اور ان کی اہلیہ کی طرف سے اسی اخبار میں ۱۹ اور ۲۲ مئی کو نہایت زبردست جواب شائع کرایا گیا۔97 ماہ جون میں نیروبی کے سواحیلی اخبار میں سواحیلی زبان کے بارے میں ایک علمی بحث چلی جس میں سواحیلی زبان کے ایک ماہر نے گرائمر کے ایک نکتہ کو موضوع بنا کر اپنا موقف پیش کیا۔مولانا جمیل الرحمن صاحب نے اس پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا جو فوٹو کے ساتھ نمایاں طور پر شائع ہوا۔جس میں آپ نے مضمون نگار کے موقف کو غلط ثابت کیا۔مضمون نگار نے جواب میں دو مثالیں پیش کیں کہ ان کا کیا حل ہے؟ مولانا جمیل الرحمن صاحب نے جواب الجواب میں دونوں مثالوں بلکہ بعض اور مثالوں کا بھی مدتل حل پیش کیا۔یہ جواب الجواب بھی اخبار نے نمایاں رنگ میں شائع کیا جس کے بعد سواحیلی زبان کے اس فاضل نے بالکل خاموشی اختیار کر لی۔ممباسہ کے قومی تہوار اور سالانہ ایگریکلچرل شو میں حسب معمول احمد یہ مشن کا سٹال بھی لگایا گیا۔مولانا جمیل الرحمن صاحب اور مولوی محمد عیسی صاحب مولوی منیر الدین احمد صاحب کی امداد کے لئے ممباسہ تشریف لے گئے۔افتتاح صدر مملکت مسٹر جوموں کینیا ٹا نے کیا۔ہزار ہا افراد سٹال پر آئے۔لٹریچر دیکھا اور خریدا۔کل ۸۳۹ شلنگ کا لٹریچر فروخت ہوا۔نہایت کثرت سے مفت لٹریچر بھی دیا گیا اور لوگوں کے استفسارات کے جوابات بھی دیئے گئے۔اس طرح کثیر التعداد افراد تک پیغام حق پہنچا۔شوگراؤنڈ ہی سے اس کا آنکھوں دیکھا حال ریڈیو کینیا سے ریلے کیا جاتا تھا۔دس منٹ کے لئے مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق کا ایک انٹرویو بھی نشر کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ مشن کے سٹال میں ہم کیا لٹریچر پیش