تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 390
تاریخ احمدیت۔جلد 28 390 سال 1972ء جب ناندی میں مسجد اقصیٰ اور مشنری کوارٹر کا مولانا محمد صدیق صاحب منگلی انچارج مشن جزائر فجی نے افتتاح فرمایا۔جس کے بعد جماعت ہائے احمد یہ جزائری کی دوروزہ سالانہ تبلیغی کانفرنس نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔مسجد اقصیٰ کے شاندار افتتاح کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حسب ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا تھا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میری طرف سے آپ سب کو مسجد اقصیٰ ناندی کا افتتاح کرنا بہت مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ اس مسجد کو اس علاقہ میں اسلام کی ترقی اور اشاعت کا کامیاب مرکز بنائے۔خلافت سے وابستگی اور نظام جماعت کی پابندی اپنا شعار بناؤ۔اس پیغام سے حاضرین میں مسرت اور انبساط کی ایک لہر دوڑ گئی جس کے بعد ناندی جماعت کے پریذیڈنٹ بھائی محمد جان خان صاحب نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے حالات بیان کر کے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔(افسوس احمدیت کے یہ شیدائی بقضائے الہی دوسرے روز شب کو اچانک وفات پاگئے۔) بھائی محمد جان خان صاحب کے بعد مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہوی انچارج مغربی اضلاع نے آیت کریمہ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (التوبہ:۱۹) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مومن مسجد میں ایسا مطمئن اور ایسے طور پر مسجد سے وابستہ رہتا ہے جیسے کہ مچھلی پانی میں اور بتایا کہ مسجد میں با قاعدہ فریضہ نماز کی ادائیگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی ہستی پر یقین زیادہ مضبوط ہوتا اور اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے۔مولا نا محمد صدیق صاحب نے بطور مشنری انچارج اس تقریب میں شامل ہونے والے احمدی، غیر احمدی اور غیر مسلم سب بھائیوں کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ اس مسجد اور مشنری کوارٹرز کی تعمیر و تکمیل اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اسلام کی صداقت کا نشان ہے کیونکہ جب اس عمارت کی بنیاد محترم ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب سابق انچارج نبی احمد یہ مشن نے رکھی تھی تو جماعت کی مالی پوزیشن ہرگز ایسی نہ تھی کہ ہزاروں ڈالر کی یہ عمارت اور اس کے اوپر یہ اتنی وسیع اور شاندار مسجد تیار کر سکتی۔لیکن آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہماری نیک نیت ، توکل اور اخلاص سے کی ہوئی قربانیوں کا پھل