تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 389 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 389

تاریخ احمدیت۔جلد 28 389 سال 1972ء ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ہمارا وفد تو گیا تھا سات آٹھ ماہ سے بند سویڈ رو ہسپتال کھلوانے مگر اس کے برعکس ہمارا دوسرا بہت کامیاب ہسپتال واقع آسو کورے بھی اپنے بہت ہی ماہر ڈاکٹر سے محروم ہونے کے خطرے سے دو چار ہوتا نظر آرہا تھا۔خاکسار نے وزارت صحت کے دفتر سے نکل کر سیکٹریٹ پوسٹ آفس سے ہی فوری طور پر ایک تار حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے ارسال کیا۔اور بعد میں تفصیلی رجسٹر ڈ خط میں خاص دعا کی درخواست کی۔جماعت غانا کے افراد کو بھی دعاؤں کی تاکید کی گئی نیز دعاؤں کے ساتھ جو ظاہری ذرائع میسر تھے ان کو بھی بروئے کارلا یا گیا۔ہمارے واقفین ڈاکٹر ز صاحبان تو خدمت دین کے جذبہ سے سرشار خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی ملازمتوں سے رخصت بلا تنخواہ لیکر ارض بلال کے باشندوں کو طبی سہولتیں مہیا کرنے گئے تھے وہ ہر قیمت پر اپنا کام جاری رکھنا چاہتے تھے۔بہر حال معاملہ صدر حکومت تک پہنچا اور مکرم ڈاکٹر صاحب کی تحریری معذرت پر ختم ہوا۔مگر وہ متعصب کمشنر صاحب جو ڈاکٹر بھی تھے وزارت صحت سے فوری تبدیلی کر کے وزارت صنعت میں بھیجے گئے اور بعد میں وہاں سے بھی جلد ریٹائر کر دیئے گئے مگر ہمارے ڈاکٹر صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے آسوکورے ہسپتال کو کامیابی سے مزید دو سال تک چلاتے رہے۔اور ہسپتال کی مستقل عمارت کی تعمیر اور جدید سامان سے آراستہ کرنے کے بعد کامیاب و کامران اپنی رخصت کے اختتام پر غانا سے واپس پاکستان ہوئے بلکہ اس کے بعد تا حال مغربی افریقہ کے دیگر نصرت جہاں سکیم کے ماتحت جاری شدہ ہسپتالوں میں خدمت سلسلہ اور خدمت خلق سرانجام دے رہے ہیں۔87 ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب نے اپنے ذاتی خرچ پر آسوکورے میں ایک مسجد تعمیر کی جس کا افتتاح مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب امیر غانا نے ۸ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو فر ما یا۔88 سال کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل خاص ہوا کہ غانا میں جماعت احمدیہ کے جاری کردہ چاروں نئے ہسپتال با قاعدہ رجسٹر ڈ ہو گئے۔مجھی 89 66 یہ سال مشن کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا کیونکہ اس میں مسجد اقصی اور مسجد محمود کے افتتاح عمل میں آئے۔اس سال کی دینی سرگرمیوں کا آغاز یکم و دو جنوری ۱۹۷۲ء ہی سے ہو گیا تھا