تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 378
تاریخ احمدیت۔جلد 28 378 سال 1972ء اسے بتایا کہ شا تو اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور وہ ہی دے گا۔ہم تو اس کے عاجز بندے ہیں۔پچھلے دنوں ایک چھ ماہ کا بچہ دمِ واپسیں لیتا ہوا میرے پاس لایا گیا۔ظاہراً کچھ امید نہ تھی مگر اللہ کا نام لے کر اسے چند ایک ادویات دیں اور شام کو بچہ پھر دکھانے کو کہا۔بچہ شام کو نہ لا یا گیا۔میں نے سمجھا کہ بچہ ختم ہو چکا ہوگا۔مگر اگلی صبح بچہ کا باپ اور اس کے بعد اس کی والدہ مع بچہ آئے۔بچہ بقائمی ہوش و حواس بلکہ خاصا تندرست نظر آیا۔اس کے بعد مزید دو ایک دن میں علاج کے بعد بچہ تندرست ہو گیا۔لوگوں کا یقین ہے کہ اگر جیتے جی مریض ہمارے کلینک میں پہنچ جائے تو یقینا صحت یاب ہو جاتا ہے۔سخت سے سخت مریض کو ہمارا مہربان خدا دنوں میں شفایابی عطا کر دیتا ہے۔“ ڈاکٹر اسلم جہانگیری صاحب انچارج نصرت جہاں کلینک نمبر 1 جور و سیرالیون نے بذریعہ مکتوب اطلاع دی۔جس جگہ میں برانچ کلینک کرتا ہوں وہاں اکثر ایک مریض میرے پاس آتا مگر ہمیشہ یہی کہتا کہ میں نے بہت علاج کرایا ہے مگر شفا نہیں ہوئی۔اس لئے اب زندگی سے مایوس ہو چکا ہوں۔ایک مرتبہ میں نے اس کا معاینہ کر کے اس کو تسلی دی اور کہا کہ اب انشاء اللہ خدا تعالیٰ تمہیں شفادے گا۔یہ الفاظ میں نے کچھ ایسے وثوق سے کہے کہ اس نے یقین کر لیا اور میری ہدایت کے مطابق جو رو میں آکر رہائش اختیار کر لی۔میں نے خصوصی طور پر اس کے لئے دعا بھی شروع کر دی اور ساتھ ہی علاج بھی۔میں حیران ہو گیا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس میں اتنی امپروومنٹ ہوئی کہ مجھے اس کے صحت یاب ہونے کا پورا یقین ہو گیا۔علاج ایک ماہ تک جاری رہا۔جس کے بعد وہ بالکل صحت یاب ہو چکا تھا۔جب وہ مجھ سے رخصت لینے آیا تو فرط مسرت سے میری آنکھیں بھیگ گئیں اور اس کے چہرے پر اتنے شکر کے جذبات تھے جو مجھے اس سے قبل دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔یہ ساری برکات اس جذ بہ خدمت کی ہیں جو ہم ساتھ لے کر وطن سے آتے ہیں۔اب بھی وہ مریض جب میرے پاس محض شکریہ ادا کرنے آتا ہے تو اس کے جذبات کی کیفیت قابل دید ہوتی ہے۔میں اسے کہا کرتا ہوں کہ جاؤ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر وجس نے تمہیں شفادی میں تو اس کا ایک عاجز بندہ ہوں۔80 66 ۳۰/اکتوبر سے ۷ نومبر ۱۹۷۲ ء تک یعنی رمضان المبارک ۱۳۹۲ ہجری کے آخری عشرہ میں جماعت احمد یہ سیرالیون نے ایک خاص منصوبہ کے تحت قرآن عظیم کے انگریزی ترجمہ کی وسیع پیمانے پر اشاعت کا فریضہ انجام دیا جس کے ملک پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔اس عظیم الشان دینی خدمت کی تفصیلات سید منصور احمد صاحب بشیر مربی سیرالیون کی درج ذیل رپورٹ سے ملتی ہیں۔