تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 371
تاریخ احمدیت۔جلد 28 371 سال 1972ء میں براہ راست پیغام پہنچانا ) تب حضرت عیسی علیہ السلام اپنے حواریوں کو بھیجتے ہیں (یونانی زبان میں جن کو بھیجا جاتا ہے انہیں اپوستو لائے Opostoloi کہتے ہیں ) کہ وہ دنیا کی تمام بادشاہتوں میں جائیں اور تمام قبیلوں میں جائیں اور تمام قوموں میں جائیں اور جا کر حضرت عیسی علیہ السلام کا پیغام دیں کہ یہودیوں کی شریعت اور نبیوں کی شریعت کامل ہو گئی ہے۔۳۔چارلس جنٹری نا گویا جاپان (Charles Gentry) میں نے مسٹر عبدالحمید صاحب ( احمد یہ موومنٹ ان اسلام کے مبلغ ) کا خط جو جاپان ٹائمز کے ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۲ء کے پرچہ میں شائع ہوا تھا بڑی دلچسپی سے پڑھا۔جاپانی عیسائیوں کے جوش اور 66 اخلاص کو سراہنے پر آپ کی تحریر قابل ستائش ہے۔۴ فلانین والش (Flanian Walsh) مسٹر عبدالحمید کا ۱۵ اکتوبر کا خط پڑھنے کا اتفاق ہوا۔میں مذہبی عالم تو نہیں ہوں مگر ایک دو باتیں باہمی مفاہمت کے طور پر عرض کرتا ہوں۔میں یہ بات ہرگز ماننے کے لئے تیار نہیں کہ مرقس باب ۱۶ کی آیات ۹ تا ۲۰ غیر مصدقہ ہیں یا یہ کہ مرقس نے ان آیات کو خود نہیں لکھا۔میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ مرقس نے ان آیات کو خود نہیں لکھا مگر یہ نہیں مان سکتا کہ یہ آیات غیر مصدقہ ہیں۔آیات ۹ تا ۲۰ اس بات کا ثبوت ضرور بہم پہنچاتی ہیں کہ سینٹ مرقس کی بجائے کسی اور شخص نے انہیں لکھا تھا مگر چرچ نے تو کبھی بھی یہ نہیں سمجھا کہ یہ غیر قانونی یا غیر الہامی یا غیر مصدقہ ہیں۔نہ ہی میں ان کے (مسٹر عبدالحمید کے ) اس بیان کو قبول کر سکتا ہوں کہ متی باب ۲۸ آیت ۱۹ کے بعد میں ایزاد کئے جانے پر سب کا اتفاق ہے ہاں بعض علماء اس امر کو سچا سمجھتے ہیں لیکن بہت سے عالموں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ الفاظ تمام مسودات میں اور تمام بائبلوں میں موجود ہیں۔۵۔جی ہومر میملن (G Homer Hamlin) مبلغ ڈیوائن پلان فاؤنڈیشن ٹوکیو Divine Plan Foundation Tokyo) نے لکھا کہ ” حضرت عیسی علیہ السلام نے ایسا ہی فرمایا تھا جیسا کہ آپ نے بائبل کا حوالہ دے کر فرمایا ہے کہ آپ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے تشریف لائے تھے مگر یوحنا باب نمبر 1 آیت نمبر 1 میں لکھا ہے کہ وہ اپنوں کی جانب آیا مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا “۔72 یہ خط و کتابت ظاہر کرتی ہے کہ عہد نامہ جدید کس قدر متضاد تعلیمات کا حامل ہے اور عیسائیت