تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 364
تاریخ احمدیت۔جلد 28 364 سال 1972ء زبان میں قطعات تیار کر کے آویزاں کئے جن کی وجہ سے ہمارا بک سٹال بہت ہی مقبول رہا۔بک سٹال پر تشریف لانے والے احباب کے سوالات کے جوابات بھی دیتے رہے۔چوہدری رشید احمد صاحب سرور نے مشن ہاؤس میں تشریف لانے والے سینکڑوں احباب کو احمدیت اور اسلام کی تعلیم سے روشناس کرایا۔سبع سبع یوم آزادی کے موقعہ پر بیس سے زیادہ مقامات کا دورہ کیا۔اپنے علاقہ کے کئی علماء شیوخ اور معززین سے ملاقات کر کے انہیں احمدیت اور اسلام کے متعلق مفید معلومات بہم پہنچا ئیں۔آپ نے سبع سبع کے چند گنتی کے دنوں میں کئی ہزار افراد کو تبلیغ کی۔۸۰۰ پرانے سواحیلی اور سو پرانے انگریزی اخبارات مفت تقسیم کئے۔ایک طالب علم کے ساتھ مل کر ۲۰ شلنگ سے زائد رقم کا لٹریچر فروخت کیا۔عیسائی صاحبان کی مجالس میں جا کر ان سے الوہیت مسیح ، کفارہ ، بائیبل میں تحریف و تبدل اور دیگر کئی مذہبی موضوعات پر گھنٹوں گفتگو کرتے رہے۔گفتگو کے دوران بعض اوقات عیسائی پادریوں کو علانیہا اپنی شکست کا اقرار کرنا پڑا۔جس کی وجہ سے عوام نے خوب جوش و خروش سے ہمارا لٹریچر خرید کیا۔آپ نے اپنے علاقہ کے کئی سو طلباء تک بھی پیغام احمدیت پہنچایا۔چارافراد کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی سعادت پائی۔جن میں ایک دوست غیر معمولی سرکاری عہدہ پر فائز ہیں۔66 جماعت احمدیہ تنزانیہ کی سالانہ مجلس مشاورت اس سال ۲۵-۲۶ - ۲۷ اگست ۱۹۷۲ء کو دار السلام میں منعقد ہوئی۔جس میں ملک بھر سے ۲۷ نمائندگان نے شرکت کی۔مشاورت کی تیاری چند روز پہلے شروع کر دی گئی اور بالخصوص مولوی محمد اسماعیل صاحب نے مسجد دار السلام اور اس کے ماحول کی صفائی ،مہمانوں کے استقبال، قیام و طعام، لاؤڈ سپیکر کی تنصیب کے انتظامات میں بھاری مدد کی۔نیز تنزانیہ مشن کا میزانیہ آمد و خرچ ۷۲-۱۹۷۱ء تیار کیا جو ٹائپ کر کے نمائندگان کے سامنے پیش کیا گیا۔آپ نے مشاورت کے ایام میں ایک بک سٹال بھی کھولا جس میں ۸۰ شلنگ سے زیادہ رقم کی کتب فروخت ہوئیں۔انچارج مبلغ چوہدری عنایت اللہ صاحب نے افتتاحی اجلاس میں سیدنا حضرت خلیفۃ ا فة المسيح الثالث کا دعائیہ مراسلہ پڑھ کر سنایا جس سے حاضرین کی زبانیں خدا کی حمد اور دعا سے لبریز ہو گئیں۔بعد ازاں چوہدری عنایت اللہ صاحب نے اراکین کو تحریک کی کہ انہیں ان دنوں میں کثرت سے استغفار اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اس کامیاب مشاورت کی مختصر کارروائی کا تذکرہ چوہدری عنایت اللہ صاحب کے قلم سے درج