تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 24 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 24

تاریخ احمدیت۔جلد 28 24 سال 1972ء واپس آ جاتی ، اس گول چکر کو لوپ کہا جاتا تھا لیکن اب یہ ٹرین بھی بند ہو چکی ہے۔ضلع تھر پارکر میں تحریک جدید کی زمینوں کا ہیڈ کوارٹر محمد آباد تھا جس میں محمد آباد فارم (۱٫۲۲۲۴ یکٹر ) نورنگر فارم (۱۸۶۱ ۱۷ یکٹر ) لطیف نگر فارم (۱/۲۰۱۸ یکٹر کریم نگر فارم (۱۷۸۸ ۱۷ یکٹر ) پر مشتمل تھا۔ضلع حیدر آباد میں بشیر آباد فارم (۱/۱۷۱۴ یکٹر ) تھی جس میں سے صرف ۱/۲۰۰ یکٹر زمین ہی تحریک جدید کوملی باقی ہزاروں ایکڑ زمین حکومت نے بغیر کسی معاوضہ کے اپنے قبضہ میں کر لی۔اسی طرح صدر انجمن احمدیہ کے نام جو اراضی تھی وہ صوبہ پنجاب، سرحد اور سندھ میں موجود تھی جس میں سے تقریباً ۲۸۰۰ ۱ یکٹر زمین بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔سندھ میں صدر انجمن کا مرکز احمد آباد فارم اور حضور کی ذاتی زمینوں کے مرکز محمود آباد اور ناصر آباد تھے۔جبکہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے خاندان کی زمینوں کا مرکز نصرت آباد تھا۔اسی طرح ضلع حیدر آباد میں تحریک جدید کا مرکز بشیر آباد، حضور کی ذاتی زمین کا مرکز مبارک آباد اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور چوہدری بشیر احمد صاحب کا ہلوں کے خاندان وغیرہ کی زمینوں کے ہیڈ کوارٹر ظفر آبادلوں کا اور ظفر آبادلا بینی تھے۔اس کے علاوہ بہت سی ذیلی گوٹھوں کے نام صحابہ کرام کے ناموں پر مثلاً نورنگر، کریم نگر ، شریف آباد، صادقپور، برہان نگر ، لطیف نگر ، رحمان آباد اور فاروق آباد دوغیرہ تھے۔ضلع تھر پارکر اور حیدرآباد جماعت کے مضبوط قلعے بن کر ابھرے۔بڑی بڑی جماعتیں قائم ہوئیں۔کنری میں کاٹن فیکٹری بھی بنائی گئی۔محمدآباد اور بشیر آباد میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قائم ہوئے جنہوں نے نئے تعلیمی ریکارڈ قائم کیے۔ان زمینوں کو آباد کرنے میں بہت سے واقفین زندگی اور غیر واقف مگر وقف کے جذبہ کے تحت کام کرنے والوں کی بیش بہا قربانیوں کا بہت بڑا دخل ہے۔منور احمد خالد صاحب جن کو ایک لمبا عرصہ ان زمینوں پر کام کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے ان زرعی اصلاحات کے پس منظر کو واضح کرنے والی ایک روایت بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ چوہدری غلام احمد صاحب کی روایت ہے کہ ان کے کزن چو ہدری محمد اسلم صاحب جو سینیٹر تھے، نے بتایا کہ جس دن شیخ محمد رشید صاحب نے جماعت احمدیہ کی زمینوں کے فیصلہ کے اعلان پر دستخط کئے دفتر سے باہر آکر دیگر سینیٹرز کو بڑے فخر سے کہا ” آج میں مرزائیوں کے گلے پر چھری پھیر آیا ہوں“ لیکن یہ چھری کس کس کی گردن پر چلی، یہ ایک داستانِ عبرت ہے جس پر تاریخ گواہ ہے۔اس کے برعکس جماعت احمدیہ زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گی۔انشاء اللہ العزیز 17