تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 327
تاریخ احمدیت۔جلد 28 327 سال 1972ء اس کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح یہ ٹورنامنٹ بڑی کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔28 ناظر صاحب بیت المال قادیان کے اہم سفر اس سال چوہدری عبدالحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال قادیان نے جماعتی عمارتوں کے سلسلہ میں حیدر آباد، بمبئی ، لدھیانہ اور ڈلہوزی کے کامیاب سفر کئے۔جن کی تفصیل ان کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۷۲ء کو احمد یہ جو بلی ہال کی دوبارہ تعمیر کے سلسلہ میں حیدر آباد کا سفر اختیار کیا گیا۔حیدر آباد میں محترم سیٹھ محمد معین الدین صاحب امیر جماعت احمد یہ حیدر آباد کے مکان پر قیام کیا گیا۔سکندر آباد میں محترم سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب اور عثمانیہ یونیورسٹی میں محترم صالح محمد الہ دین صاحب سے ملاقات ہوئی۔پانچ چھ روز حیدر آباد میں قیام کے بعد خاکسار واپسی پر بمبئی آگیا۔جہاں الحق بلڈ نگ کو ازسر نو پانچ چھ منزلہ تعمیر کرانے کے متعلق حالات کا جائزہ لیا گیا اور مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۷۲ء کو واپس قادیان آیا۔دار البیعت لدھیانہ کی جائیداد غیر مسلوں کے قبضہ میں تھی اور محکمہ پنجاب وقف نے وہاں کے مقیم دو افراد شری راجہ رام اور اوم پرکاش سے برائے نام کرایہ نامہ لکھوایا ہوا تھا۔چونکہ یہ جائیداد بھی انجمن کو واگزار ہو چکی تھی اس لئے محکمہ وقف بورڈ سے ان کا تصرف اور قبضہ چھڑانے کے لئے جون ۱۹۷۲ء میں خاکسار اور مکرم فضل الہی خان صاحب مختار عام لدھیانہ گئے اور وہاں کے مکینوں سے کرایہ نامہ اور لائسنس ڈیڈ صدر انجمن احمدیہ کے نام لکھوا کر اس جگہ قانونی حق ملکیت قائم کیا گیا۔غالباً یہ سب سے آخری جائیداد ہے جو واگذاری کے احکامات کے بعد قبضہ میں آئی۔جون ۱۹۷۲ ء کے تیسرے ہفتہ میں کوٹھی پیس واقع ڈلہوزی کی فروخت کے لئے مکرم فضل الہی خان صاحب کے ہمراہ ڈلہوزی کا سفر اختیار کیا گیا۔صدر انجمن احمد یہ قادیان کا اصولی فیصلہ تھا جس کی منظوری حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمائی تھی کہ پنجاب میں واقع ایسی جائیداد جو قادیان سے دور فاصلہ پر ہوں اور جن کا انتظام کرنا مشکل ہو اور کوئی آمد نہ ہو رہی ہو بلکہ غیروں کی طرف سے قبضہ مخالفانہ کا خطرہ ہو تو فروخت کر کے اس رقم سے قادیان میں ایسی زرعی اراضی یا سکنی جائیداد خریدی یا تعمیر کرائی جائے جس سے معقول مستقل آمد ہوتی رہے۔اس تجویز کے ماتحت قادیان میں بنک کی