تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 326
تاریخ احمدیت۔جلد 28 326 سال 1972ء جوش وخروش کے لحاظ سے یہ میچ بہت ہی دلچسپ رہا۔میچ کے دوران لاؤڈ سپیکر پر جو کومنٹری ہو رہی تھی اس نے اس دلچسپی میں اور اضافہ کر دیا تھا۔بالآخر میدان ربوہ بی کے ہاتھ رہا۔اس نے ۳۲ کے مقابلہ میں ۴۸ پوائنٹس لے کر یہ میچ جیت لیا اور چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کیا۔اگر چہ ریلوے کی ٹیم بازی تو نہ لے جاسکی لیکن اس کا کھیل بھی ہر لحاظ سے معیاری تھا اور اس کے کھلاڑی آخر تک خوب ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ربوہ کے میاں ریاض، توحید پٹھان، شفیع چیمہ، رفیق چیمہ اور محمد اسحق نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔جبکہ ریلوے کے مشتاق ، غلام محمد محمد نواز اور بشیر کا کھیل بھی بہت پسند کیا گیا۔ان سب نامور کھلاڑیوں نے جی بھر کر شائقین سے دادوصول کی اور انعامات حاصل کئے۔فائنل مقابلہ کے اختتام پر تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی جس میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ٹیموں اور کھلاڑیوں کو انعامات عطا فرمائے۔اس موقعہ پر آپ نے اپنے مختصر مگر برجستہ خطاب میں فرمایا کہ ربوہ کے سبھی افراد کبڈی کے کھیل میں بے حد دلچسپی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر سال بے چینی سے اس ٹورنامنٹ کا انتظار کرتے ہیں اور ہر سال باہر سے آنے والے اور یہاں کے رہنے والے بڑی محبت کے ساتھ بھائیوں کی طرح آپس میں ملتے ہیں اور خدا کے فضل سے یہ ٹورنامنٹ بڑے ہی اچھے ماحول میں منعقد ہوتا ہے۔آپ نے فرما یا ہار جیت تو ہوتی ہی ہے اس کے مختلف عوامل ہوتے ہیں مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جیتنے کی صورت میں اپنے اندر عجز و انکساری پیدا کرو تا کہ تکبر اور غرور پیدا نہ ہو اور یہ احساس قائم رہے کہ طاقت وقوت کا اصل سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے اور ہارنے کی صورت میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اپنے حوصلہ اور جرات کو قائم رکھو۔آپ نے فرمایا۔کامیابی کی صورت میں تالی بجانے کی بجائے اسلام ہمیں سبحان اللہ، الحمد للہ ، اللہ اکبر ایسے کلمات دہرانے کی ہدایت کرتا ہے تا کہ یہ حقیقت ہمارے سامنے رہے کہ ہم تو بے حیثیت ہیں اصل طاقت خدا ہی میں ہے۔پس جیتنے والی ٹیمیں اپنے اندر انکساری پیدا کریں اور ہارنے والے کھلاڑی اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں کہ یہی کھیل کی حقیقی روح ہے۔آخر میں آپ نے فرمایا پاکستان کو بھی گذشتہ دنوں ایک عارضی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں بھی مایوسی اور بددلی پیدا نہ ہو بلکہ قوم کے حوصلے بلند ر ہیں وہ پہلے سے زیادہ تیاری کرے تا کہ اس شکست کا بدلہ لیا جا سکے اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دشمن کے تکبر وغرور کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں اور ہمیں ہر لحاظ سے اس پر غلبہ اور برتری حاصل ہو۔