تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 303
تاریخ احمدیت۔جلد 28 303 سال 1972ء چوہدری عصمت اللہ صاحب بہلولپوری ایڈووکیٹ (وفات ۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء) بہت ہی مخلص اور متعدد خوبیوں کے مالک تھے۔سلسلہ کی خدمت کو اپنے لئے بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے۔آپ نے جولائی ۱۹۳۱ء سے دسمبر ۱۹۷۲ء تک سرینگر، بھمبر ، نوشہرہ اور کوٹلی کے مظلوم کشمیری مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی میں ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں جن کا ذکر تاریخ احمدیت جلد ششم صفحہ ۵۷۵و۵۷۶ میں گزر چکا ہے۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۷۲ سال تھی۔آپ کا جنازہ مورخہ ۱۴ دسمبر کور بوہ لایا گیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔187 كل النساء لطیف صاحبه فجی (وفات: ۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء) آپ حاجی عبداللطیف صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ صوا (نجی) کی اہلیہ تھیں۔نجی کے ابتدائی مبائعین میں سے تھیں۔لجنہ اماء اللہ نبی کی سرگرم کارکن ہونے کے علاوہ نجی کے عام رفاہی کاموں میں دلچسپی سے حصہ لیتی تھیں۔احمدیہ مسجد صوا اور احمد یہ مشن کی صفائی اور دیگر ضروریات پورا کرنے کرانے کا اکثر خود بخو دا نتظام کرتیں۔دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے نیز مہمان خانہ کے لئے چادریں وغیرہ اپنی طرف سے اور بعض دفعہ لجنہ کی طرف سے پیش کرتی تھیں۔اسی طرح درس اور دیگر عام جلسوں، دعوتوں کے موقع پر لجنہ کی دوسری بہنوں کے ساتھ کئی کئی گھنٹے خدمت میں مصروف رہتیں۔۱۹۶۲ء میں ربوہ اور قادیان کے جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور حضرت خلیفۃ امسیح الثانی کی زیارت اور ملاقات سے مشرف ہوئیں۔اسی طرح ۱۹۶۸ء میں بھی قادیان اور ربوہ کے جلسوں میں شرکت کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل کیا۔۱۹۶۲ء میں آپ نے اپنے خاوند کے ساتھ حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضہ نبوی کی سعادت بھی حاصل کی۔88 مولوی مهدی شاہ صاحب (وفات: ۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء)