تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 296
تاریخ احمدیت۔جلد 28 296 سال 1972ء مولا نا محمد یعقوب خان صاحب کے خود نوشت حالات جو مولا نا عبدالرحمن صاحب مبشر مولوی فاضل کی تحریک پر آپ نے قلمبند فرمائے ، اس میں آپ نے لکھا:۔”میری پیدائش ۱۸۹۱ء میں ضلع پشاور کے ایک گاؤں پیر پیائی میں ہوئی۔پرائمری کی پانچ جماعتیں اسی گاؤں کے مدرسہ میں پاس کیں۔اس کے بعد مڈل کلاسوں کے لئے قریب کے قصبہ نوشہرہ نامی میں داخلہ لیا وہاں سے آٹھ جماعتیں پاس کرنے کے بعد پشاور سنٹر میں انگریزی تعلیم کے لئے گیا اور ایم۔بی ہائی سکول میں داخل ہوا وہاں سے ۱۹۰۷ ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اعلیٰ پوزیشن لے کر وظیفہ حاصل کیا۔اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور اسلامیہ کالج میں داخل ہوا۔1911ء میں بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔اسی اثناء میں میرا پشاور کے مولانا غلام حسن خان صاحب نیازی مرحوم کے مکان پر آنا جانا ہوا جہاں احمدی دوستوں سے ملاقات کی تقریب پیدا ہوئی۔ان میں سے کسی دوست (غالباً قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم) نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف آئینہ کمالات اسلام پڑھنے کے لئے دی۔اس کے پہلے صفحہ پر جب میں نے وہ نظم پڑھی جس میں حضور علیہ السلام نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔بکوشید اے جواناں تا بہ دیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا تو میرے دل پر فوراً یہ اثر ہوا کہ یہ کلام جو اتنا پرتاثیر ہے کسی کا ذب کا نہیں ہوسکتا بلکہ کسی ایسے شخص کا ہو سکتا ہے جو دل میں اسلام کا سچا در درکھتا ہو۔اسی سے متاثر ہوکر میں حضرت خلیفہ اول کی بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔بی اے کرنے کے بعد میں نے بی۔ٹی کا امتحان دیا اور ۱۹۱۴ء میں تعلیمی سلسلہ سے منسلک ہو گیا۔۱۹۱۴ء میں جب حضرت خلیفہ اول کی وفات کی خبرسنی تو میں اور ایک اور احمدی دوست ( قاضی عبدالحق صاحب مرحوم ) لاہور سے قادیان پہنچے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ خلیفہ کے انتقال پر یہی معمول ہے کہ فوت شدہ خلیفہ کے دفن کرنے سے پہلے دوسرے خلیفہ کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔چنانچہ اس مقصد کے لئے مسجد نور میں بڑا بھاری اجتماع ہوا جس میں دور دراز سے احباب شمولیت کے لئے آئے ہوئے تھے میں بھی اس مجمع میں موجود تھا۔اس وقت کی جو کیفیت میرے ذہن میں محفوظ رہی وہ یہ ہے کہ مجمع میں بڑا جوش و خروش تھا کہ جلد نئے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے۔میں نے مسجد نور میں