تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 284 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 284

تاریخ احمدیت۔جلد 28 284 سال 1972ء آپ کی اکثر و بیشتر تصانیف علمی، تاریخی اور سوانحی موضوعات پر مشتمل ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد ایسی کتب کی بھی ہے جو آپ نے نہایت آسان و سلیس زبان اور بہت عام فہم و دلکش انداز میں خاص طور پر بچوں کے لئے تصنیف فرما ئیں اور جنہیں آپ نے خود اپنے زیر انتظام اپنے ہی اشاعتی اداروں حالی بک ڈپو اور محمد احمد اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا۔یہ سب کتابیں بہت مقبول ہو ئیں اور ان کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔آپ کی تصنیف کردہ تاریخی کتب میں سے (۱) تاریخ اسلام (۲) تاریخ خلفائے راشدین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اسلامی علمی کتب میں (۱) اساس اسلام (۲) اسلام کا نظریہ آزادی (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیم (۴) دس بڑے مسلمان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔آپ کے عربی کتب کے اردو تراجم میں سیرۃ ابن ہشام اور طبقات ابن سعد کے تراجم اور ان پر آپ کے تحریر کردہ مقدمات کو ملک بھر میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔بچوں اور طالب علموں کے لئے اسلامی تعلیم اور دینیات پر مشتمل کتا میں بھی آپ نے شائع کیں جنہیں خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔الغرض تالیفات و تصنیف کا کام آپ زندگی بھر کرتے رہے۔ضعیف العمری میں جب کہ آپ کی عمر ساٹھ کی دہائی میں داخل ہو چکی تھی حکومت کے کہنے پر آپ نے ایک بہت محنت طلب کام سرانجام دے کر علمی اور ادبی حلقوں کو حیرت زدہ کر دیا۔صدر ایوب خان نے اپنے دور حکومت میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ سرسید احمد خان کی تصنیف کردہ کتب کے علاوہ ان کے مختلف علمی، تربیتی اور اصلاحی موضوعات پر جو بیشمار مضامین اور مقالے اس زمانے کے رسائل و اخبارات میں شائع ہوتے رہے تھے ان سب کو جمع کر کے ایک سلسلہ کتب کی شکل میں شائع کیا جائے۔یہ دقت طلب اور خارا اشکاف کام لاہور کی مجلس ترقی ادب کے سپر د ہوا۔اس کام کے لئے مجلس کی نگاہ انتخاب محترم شیخ محمد اسمعیل پانی پتی پر پڑی۔جملہ اراکین مجلس جنہیں اردو ادب میں مشاہیر کا درجہ حاصل تھا اس بات پر متفق تھے کہ یہ رطل گراں اگر کوئی اٹھا سکتا ہے تو وہ یہی ضعیف العمر مرد میدان ہے کیونکہ سرسید احمد خان اور مولانا الطاف حسین حالی کی تصانیف و تحریرات اور ان کے اصلاحی کاموں کے بارہ میں اس نحیف و نزار کہنہ مشق قلمکار کو ہی سند کا درجہ حاصل ہے۔چنانچہ مجلس ترقی ادب کے اراکین کے اصرار پر آپ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور تن تنہا سر سید احمد خان کے بکھرے ہوئے مقالات کو پرانے زمانہ کے رسائل و اخبارات سے جمع کر کے اور بعض ایسے مقالوں کو جو بظاہر نا پید ہو چکے تھے پرانے علم دوست اور ادب نواز مشاہیر کے ورثاء کے ذاتی کتب خانوں