تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 273 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 273

تاریخ احمدیت۔جلد 28 273 سال 1972ء چک قاضیاں تحصیل شکر گڑھ کے ایک پیر خاندان کے چشم و چراغ تھے۔حضرت قاضی سید حبیب اللہ شاہ صاحب آف شاہدرہ ( بیعت ۱۹۰۰ ء۔وفات ۲ مارچ ۱۹۷۴ء) کے ہاں مقیم تھے کہ انہی کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچا۔پہلی کتاب جو سلسلہ احمدیہ کی آپ نے مطالعہ کی وہ آئینہ کمالات اسلام تھی۔ازاں بعد آپ نے مکتوبات احمدیہ حصہ اول اور ازالہ اوہام کو پڑھا جس کے نتیجہ میں آپ پر حق بالکل کھل گیا۔چنانچہ خود تحریر فرماتے ہیں:۔پہلی کتاب جو میں نے مطالعہ کی وہ آئینہ کمالات اسلام تھی جس میں حضرت اقدس علیہ السلام نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات بیان فرمائے ہیں۔چونکہ رسول پاک سے خاندانی طور پر مجھے بہت محبت تھی میرے اندر اس کتاب کے مطالعہ نے ایک عجیب وجدانی کیفیت پیدا کر دی۔چنانچہ اسی وجدانی حالت میں ایک دن مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اس قدر غلبہ تھا کہ میں شوق و محبت کی وجہ سے رورہا تھا۔وجدانی حالت طاری تھی کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پاکیزہ اور نورانی شکل میں میری میز کے سامنے تشریف لائے۔یہ کشفی حالت تھی جس سے میرے دل میں نہایت سرور اور اطمینان پیدا ہوا۔یہ حالت نماز تھی۔نماز ختم کر دی۔دوسری کتاب جو میرے مطالعہ میں گزری وہ مکتوبات احمد یہ جو میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام کی تصوف کے رنگ میں ہے اس نے بھی مجھ پر بہت اثر پیدا کیا۔میری طبیعت کا میلان بھی تصوف کی طرف تھا۔تیسری کتاب جو میں نے پڑھی وہ ازالہ اوہام تھی جس نے میرے عقیدہ حیات مسیح کو بالکل دل سے باہر نکال پھینکا۔جس میں قرآن کریم اور حدیث کی رو سے زبر دست دلائل وفات مسیح کے متعلق دیئے گئے ہیں۔غرضیکہ وفات مسیح کا قائل ہو گیا مگر حضرت قاضی صاحب کو کوئی علم نہیں تھا کہ میں کتابیں مطالعہ کر رہا ہوں۔البتہ مہدی کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہو گیا تھا۔حضرت مرزا صاحب اپنے زمانہ کے مہدی ہیں جو مہدی سادات میں سے ہوگا۔وہ اپنے وقت پر الگ آوے گا۔ایک دن رات کے ۸ بجے ہوں گے سردیوں کا موسم تھا حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب نے مجھے کہا کہ محمد لطیف تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو دیکھا ہے۔میں نے کہا کہ نہیں۔انہوں نے اس وقت اندرونِ خانہ سے حضرت صاحب کا فوٹو منگوایا۔فوٹو میں نے دیکھا تو یکدم میری حالت اس نوری شکل کو دیکھ کر متغیر ہوئی۔ایک نور بجلی کی طرح میرے اندر داخل ہوا اور بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ یہ عظیم الشان نبی کا فوٹو ہے حالانکہ میں نے حضرت صاحب کے دعوی نبوت کے متعلق کوئی کتاب