تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 266 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 266

تاریخ احمدیت۔جلد 28 266 سال 1972ء جامعہ احمدیہ میں بھی پڑھاتے رہے۔کچھ عرصہ دفتر الفضل میں بھی بطور پروف ریڈر خدمت کا موقع ملا۔مورخہ ۲۸ مئی کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔148 سرفراز خان صاحب افغان (وفات ۲۸ مئی ۱۹۷۲ء) مکرم سرفراز خان صاحب افغان مددگار کارکن نظارت بیت المال ( آمد ) مختصر علالت کے بعد مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۷۲ء کو بعمر ۵۹ سال وفات پاگئے۔مرحوم بہت محنتی ، فرض شناس، زندہ دل اور مخلص کارکن تھے۔تیرہ سال کی عمر میں اپنے آبائی گاؤں موضع ممہ خیل نز دنو رنگ ضلع بنوں سے ہجرت کر کے قادیان آگئے۔آپ ۱۹۳۹ ء میں صدر انجمن احمدیہ میں بطور مددگار کارکن ملازم ہوئے۔پہلے نظارت دعوت و تبلیغ میں اور پھر لمبا عرصہ نظارت بیت المال میں خدمت کا موقع ملا۔مرحوم موصی تھے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ میں عمل میں آئی۔149 مولوی عبد الرحمن صاحب (وفات ۵ جون ۱۹۷۲ء) مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب آف دا تہ ضلع ہزارہ نے مورخہ ۵ جون ۱۹۷۲ء کو وفات پائی۔آپ کی عمر ۷۵ سال تھی۔آپ دیو بند ضلع سہارنپور سے فارغ التحصیل ہو کر بمقام لگ منگ علاقہ بوئی تحصیل ایبٹ آباد اپنے آبائی گاؤں میں منصب خطابت پر فائز ہوئے۔علمی برتری حاصل ہونے کے باعث جملہ علاقہ ہوئی میں آپ کو اونچا مقام حاصل تھا۔آپ ذاتی طور پر خاصی جائیداد کے مالک تھے۔وہ زمانہ آپ کا بڑا شاندار تھا۔قبولیت احمدیت کے بعد مخالفت کی آگ اتنی تیز ہو گئی کہ آخر مولوی صاحب کو وطن عزیز سے مجبوراً ہجرت کرنا پڑی۔آپ اپنی جائیداد کوڑیوں کے مول فروخت کر کے دانہ تحصیل مانسہرہ میں آکر آباد ہو گئے۔ایک شادی کے موقعہ پر آپ پر مخالفین نے قاتلانہ حملہ بھی کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔مولوی صاحب کو تبلیغ کا جنون تھا۔بڑے نڈر احمدی اور وابستگئی خلافت میں بڑے مخلص اور غیور تھے۔آپ باقاعدہ تہجد گزار تھے۔آپ کی قبولیت دعا کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے لئے بستر وغیرہ سامان لے کر گھر سے برائے ربوہ روانہ