تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 248
تاریخ احمدیت۔جلد 28 248 سال 1972ء بسجده سر خمیده بزمین است مخور غم گرتن بے جان داری نماز دل سر عرش برین است مسیحائے زماں جان آفرین است جناب تنویر کا کمال یہ تھا کہ احمدیت سے وابستہ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے پرانے رنگ کو یکسر خیر باد کہہ دیا اور جماعت کے ساتھ ایسا قوی اور زندہ رشتہ قائم کیا کہ پھر ان کے شعر تر جمان احمدیت بن گئے۔حقیقت یہ ہے کہ مقصدیت کی شدید ر و فتنی رشتوں کو منقطع کر دیتی ہے لیکن جناب تنویر نے غزل کی زبان میں نظم کے تسلسل و تواتر کو برقرار رکھتے ہوئے خوبصورت شعر تخلیق کئے اور اس طرح جہاد بالقلم کا حق ادا کر دیا۔غزل کی علامتیں، غزل کا ایجاز اور غزل کی ایمائیت سب چیزیں ذہن میں رکھئے اور احمدیت کے پس منظر میں جناب تنویر کے یہ شعر دیکھئے:۔میں کیا کروں گا آب حیات دوام کو جلووں کا اٹھا ہے طوفان ترے کوچے میں میرا سلام خضر علیہ السلام كو كلّ يوم هو في شان، ترے کوچے میں تفصیل ہم سے پوچھئے پر خدو خال کی ذکر حق ، ذکر نبی، ذکرِ مسیحائے زماں دیکھا ہے ہم نے جلوہ ماہ تمام کو لگتی ہے مجلس عرفان ترے کوچے میں نگہہ کش تو ہے پھول ، دل جو نہیں ہے فلسفے والوں کے سب فلسفے نکلے باطل یہ ہے رنگ ہی رنگ ، خوش بو نہیں ہے فلسفی بن گئے انسان، ترے کوچے میں اذاں کھینچ لیتی ہے جاں کو رگوں سے دنیا میں آج حاملِ قرآن کون ہے؟ یہ اعجاز ہے کوئی جادو نہیں ہے گر ہم نہیں تو اور مسلمان کون ہے؟ یہ امن کا پیغام ہے ، پیغام ہے لوگو اسلام ہے اسلام ہے اسلام ہے لو گو 129۔اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلدا صفحه ۳۹۶ شائع کردہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لا ہور (۱۹۸۷ء) میں آپ کی نسبت لکھا ہے کہ ” تنویر روشن دین (۱/۲۰ پریل ۱۸۹۲ ء - جنوری ۱۹۷۲ء) شاعر اور ادیب، آپ نے سیالکوٹ ، ۱۹۱۷ء میں مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کیا۔یہاں شمس العلماء علامہ سید