تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 240 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد 28 240 سال 1972ء میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دو مرتبہ دبایا ہے اور اس وقت بھی میرے دل میں یہ خیال تھا کہ کسی وقت یہ فخر سے ذکر کیا کریں گے کہ اس مبارک اور مقدس وجود کو دبایا ہے۔میں جب پڑھا کرتا تھا تو کچھ دن میں روٹی حضور علیہ السلام کے گھر سے کھایا کرتا تھا۔چولہے پر پکی ہوئی روٹی ملتی تھی۔تنور وغیرہ کا اس وقت کوئی انتظام نہ تھا۔120 حضرت حکیم صاحب نے ۱۹۴۷ء کی ہجرت کے بعد سرگودھا شہر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔نہایت پارسا، پابند صوم وصلوٰۃ اور تہجد گزار بزرگ تھے۔121 اہلیہ اول ( نام معلوم نہیں ہو سکا اولاد: احمد نور صاحب۔خورشید بیگم صاحبہ۔اہلیہ ثانی حمیدہ بیگم صاحبہ اولاد امتہ المنان صاحبہ اہلیہ فضل الرحمن غازی صاحب آف دھرمپورہ لاہور۔بشری اختر صاحبہ حال مقیم سرگودھا۔بشیر احمد صاحب حال مقیم سرگودھا۔سعیدہ مسعود صاحبہ اہلیہ شیخ مسعود احمد صاحب آف اوکاڑہ حال مقیم برمنگھم یو۔کے حضرت ڈاکٹر سراج الحق خان صاحب ولادت: اکتوبر ۱۸۹۷ ءاندازاً بیعت پیدائشی احمدی وفات : ۱۴ دسمبر ۱۹۷۲ء آپ موضع فیض اللہ چک ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم کا نام منشی دین محمد خان صاحب تھا، جو آپ کی پیدائش کے چند سال کے بعد ہی وفات پاگئے تھے۔اس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چانشی نور محمد خان صاحب نے کی۔آپ ۱۹۰۵ء میں ٹی آئی ہائی سکول قادیان کی تیسری کلاس میں داخل ہوئے۔اور وہاں سے ۱۹۱۵ ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔اس کے بعد آپ کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔جنگ عظیم کی وجہ سے میڈیکل کی تعلیم ۱۹۲۳ء میں آگرہ سے مکمل کی۔۱۹۴۸ء میں فوجی ملازمت سے ریٹائر ہوئے اور کوئٹہ میں میڈیکل پریکٹس شروع کی۔کئی سال تک میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر رہے۔۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۴ء کے دوران ڈیپوٹیشن پر ملاوی تشریف لے گئے اور وہاں سماجی اور معاشرتی بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔چند افراد آپ کی کوششوں سے احمدی بھی ہوئے۔واپسی پر آپ پشاور میں تعینات ہوئے۔کوئٹہ میں سردی زیادہ ہوتی تو کراچی چلے جاتے۔۱۹۷۲ء میں کراچی آئے تو شدید بیمار ہو گئے اور ۱۴ دسمبر ۱۹۷۲ء کو وفات پا گئے۔جنازہ ربوہ لے جایا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں دفن کئے گئے۔122