تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 239
تاریخ احمدیت۔جلد 28 239 سال 1972ء تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ / اصحاب کبار میں شمولیت کا فخر حاصل تھا۔آپ کی خودنوشت روایات میں لکھا ہے:۔میں قریباً بیس برس کا تھا کہ گورداسپور میں کرم الدین جہلمی (در اصل بھیں ضلع جہلم کا تھا) کے مقدمہ کا حکم سنایا جانا تھا۔میں ایک دن پہلے اپنے گاؤں سے وہاں پہنچ گیا ( تھا) وہاں پر ایک کوٹھی ( میں ) حضور علیہ السلام بھی اترے ہوئے تھے۔گرمی کا موسم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ادھر کے ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں پر میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب، میاں امام الدین صاحب سیکھوائی اور۔۔۔( یعنی چوہدری عبد العزیز صاحب بھی موجود تھے۔میں نے جا کر حضور کو پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔حضور نے میری طرف دیکھا اور میرے والد میاں جمال الدین صاحب کی طرف اشارہ کر کے مسکرا کر فرمایا کہ میاں اسماعیل نے بھی آکر ثواب میں سے حصہ لے لیا ہے۔حضور کا معمولی اور ادنی خدمت سے خوش ہو جانا اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو طبیعت میں سرور پیدا ہوتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک وفد نصیبین بھیجنے کا قصد کیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات دریافت کرنے کے متعلق اس میں مرزا خدا بخش صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب تھے اور تیسرے ممبر میرے والد میاں جمال الدین صاحب قرعہ اندازی سے مقرر ہوئے۔حضور علیہ السلام نے کپڑوں وغیرہ کی تیاری کے لئے تینوں صاحبوں کو پچاس پچاس روپے دیئے۔بعد ازاں حضور نے ایک جلسہ الوداع کیا لیکن اس کے بعد بعض وجوہات کی وجہ سے یہ وفد روک دیا گیا۔جب وفد کا جانارک گیا تو میرے والد صاحب نے پچاس روپے حضور کی خدمت میں واپس پیش کئے۔حضور نے فرمایا جو ہم کسی کو دے دیا کرتے ہیں واپس نہیں لیتے۔جب والد صاحب واپس گھر آئے تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا۔ایک دفعہ میں اور میرے چچا میاں امام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لئے آئے حضور ( علیہ الصلوۃ والسلام) نے اندر بلا لیا۔میرے چا امام الدین صاحب کا ایک لڑکا بشیر احمد مرحوم بیمار تھا اور حضور کو دکھانا تھا۔حضور نے اس کی دوا تجویز کر دی۔حضور اس وقت صحن میں بیٹھے تھے۔اردگرد کتا بیں رکھی تھیں۔سر مبارک سے عمامہ ایک طرف نیچے رکھا ہوا تھا۔حضور کے سر مبارک پر پٹے تھے۔بال سیدھے تھے جو کانوں کو مس کرتے تھے۔چوکڑی مار کر بیٹھے تھے۔اس وقت قریباً نصف گھنٹہ تک حضور کے پاس بیٹھ کر ہم واپس آگئے۔