تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 232
تاریخ احمدیت۔جلد 28 232 سال 1972ء کے پابند تھے۔پیر کوٹ ثانی میں مسجد احمد یہ آپ کے گھر کے بالکل سامنے واقع تھی۔بڑے متوکل انسان تھے اور بڑے مستجاب الدعوات تھے۔آپ صاحب رؤیا اور کشوف تھے۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتے تھے بڑے مؤثر رنگ میں یہ فریضہ ادا کرتے اور اس کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیتے۔مخالف علماء اور پادریوں سے بے دھڑک بات کرتے۔دعوت الی اللہ کی غرض سے دوسرے دیہات میں جاتے۔ایک دفعہ ایک گاؤں کے متعصب افراد نے آپ کو بہت مارا۔آپ بے ہوش ہو گئے اور ایک تالاب کے کنارے لمبا وقت پڑے رہے۔ہوش آنے پر بجائے واپس آنے کے دوبارہ گاؤں میں گئے اور اچھا خاصا وقت دعوت الی اللہ میں گزار کر واپس آئے۔مقامی جماعت کے صدر صاحب بالعموم گاؤں سے باہر رہتے ان کی غیر حاضری میں جماعتی کام آپ ہی سرانجام دیتے۔درس و تدریس کا کام کرتے اس کے علاوہ آپ مقامی جماعت میں سیکرٹری دعوت الی اللہ سیکرٹری تربیت اور امام الصلوۃ کے عہدوں پر فائز رہے۔اللہ تعالیٰ نے نوجوانی کی عمر میں ہی آپ کو نظام وصیت سے منسلک ہونے کی توفیق بخشی۔سالانہ جلسوں اور مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہر سال با قاعدہ شامل ہوتے اور اس کے لئے بڑے بڑے اہم کام بھی نظر انداز کر دیتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو لمبی عمر پانے والے تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔آپ کے دو بیٹوں مولوی محمد عبد اللہ صاحب پیر کوئی مرحوم، مولوی سلطان احمد صاحب پیر کوئی مرحوم اور تین دامادوں مولوی محمد سعید صاحب مرحوم سابق انسپکٹر مال ، نورالدین صاحب خوشنویس مرحوم، مکرم محمد عبداللہ چیمہ صاحب کارکن وقف جدید کو اللہ تعالیٰ نے لمبا عرصہ خدمت سلسلہ کی توفیق عطا فرمائی اور آپ کی انگلی نسلوں میں بھی بہتیرے سلسلہ کی خدمت میں مصروف رہے اور ہیں۔وفات سے تقریباً پندرہ سال قبل آپ پیر کوٹ ثانی کو خیر باد کہہ کر اپنے چھوٹے بیٹے مولوی سلطان احمد صاحب پیر کوئی دار الرحمت غربی ربوہ کے ہاں فروکش ہو گئے۔آپ بڑے نفاست پسند تھے۔ہمیشہ صاف ستھرا اور سفید لباس، پگڑی قمیض اور دھوتی زیب تن کیا۔باریش اور نورانی چہرہ تھا۔جماعت اور خلافت سے بڑی گہری وابستگی اور والہانہ عشق تھا۔آپ نے تین خلفائے احمدیت کا زمانہ پایا۔حضرت نانا جان گو کہ کسی دنیوی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہ تھے لیکن خدا داد صلاحیتوں اور ذاتی شوق و لگن سے عربی اردو صحت تلفظ اور روانی کے ساتھ پڑھ لیتے