تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 220 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 220

تاریخ احمدیت۔جلد 28 220 سال 1972ء ا۔ایڈیٹر الفضل نے تبلیغ ولایت کے زیر عنوان درج ذیل نوٹ سپر دا شاعت کیا۔جناب قاضی صاحب کا اخلاص قابل رشک اور لائق مبارکباد ہے۔جس محنت اور جانفشانی سے تبلیغ ایسا مشکل کام کرتے ہوئے انہوں نے اخراجات میں کمی کی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں انہیں بڑے بڑے انعامات کا وارث بنائے۔جناب مفتی صاحب ان کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہر کام ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کرنے کی کوشش کی ہے۔سودا بازار سے خود لانا اور وہ بھی کئی دوکانوں سے دیکھ بھال کر۔خود کپڑے دھوبی کے پاس پہنچانا۔آپ کھانا پکانا۔اس میں کبھی تساہل ہوا تو بھوکے ہی سورہنا۔خود ٹائپ کرنا وغیرہ۔اس سے احباب سمجھ لیں کہ جناب قاضی صاحب کو کس قدر کام کرنا پڑتا ہوگا۔یہی وجہ تھی کہ ان کی صحت خراب ہوگئی۔۔۔۔برادرم قاضی عبد اللہ صاحب نے پارک میں لیکچر دیا۔دو شخص جو وہاں اکثر سوالات کیا کرتے ہیں اسلام کے بہت قریب آ رہے ہیں۔66 ۲۔ایڈیٹر ” الفضل نے ۲۹ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۲ پر لنڈن کا خط“ کے زیر عنوان حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب کے خط نوشتہ ۱/۵ پریل ۱۹۱۷ کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت قاضی صاحب نے اپنی ایک دہر یہ سے ہونے والی گفتگو کا حال بیان کیا ہے۔جو کہ ہائیڈ پارک میں ہوئی اور اس کا سامعین پر بہت اچھا اثر ہوا۔اس کے علاوہ ۱۲ را پریل ۱۹۱۷ ء کا خط بھی موجود ہے جس میں ایک خاتون کے سلسلہ میں شامل ہونے کی خوشخبری بھی بتائی گئی ہے۔67۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے لنڈن سے ایک تبلیغی مکتوب میں تحریر فرمایا:۔۲ جون ۱۹۱۷ء کو حضرت قیصر ہند جارج پنجم بمعہ ملکہ معظمہ اور ملکہ الیگزینڈرا اور دیگر ممبران شاہی خاندان ہائیڈ پارک کی سیرگاہ میں تشریف فرما ہوئے اور سپاہیوں کو جو میدان جنگ سے آئے ہوئے تھے تمغے مرحمت فرمائے۔عاجز راقم اور مکرم قاضی صاحب بھی بادشاہ کو دیکھنے کے واسطے وہاں گئے۔ناظمان جلسہ نے نہایت مہربانی سے ہم ہر دو کو ایک ایسی ممتاز جگہ پر کھڑا کر دیا جہاں سے بادشاہ کی سواری گذرنے والی تھی۔ہم ہر دو عمامے پہنے ہوئے تھے اور عاجز تو یہاں عموماً ہر وقت عمامہ ہی رکھتا ہے۔وہی سبز عمامہ جو احباب نے ہندوستان میں دیکھا۔بادشاہ سلامت نے دور سے ہم کو دیکھا اور برابر ہماری طرف ہی دیکھتے اور مسکراتے رہے جب سواری قریب پہنچی تو ہم نے سلام کیا۔بادشاہ سلامت نے ہمارے سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دیا اور ملکہ الیگزینڈرا تو گاڑی کے آگے نکل