تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 197 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 197

تاریخ احمدیت۔جلد 28 197 سال 1972ء پڑھی۔بیعت کے بعد آپ کے والد اور دوسرے اعزہ اور قارب بھی مخالف ہو گئے لیکن آپ نے ان کی مخالفت نہایت حوصلہ اور صبر سے برداشت کی۔ہر جمعہ کو گاؤں سے پیدل چل کر قادیان آتے نماز جمعہ ادا کرتے اور پھر اسی دن پیدل ہی واپس چلے جاتے۔ہجرت تک آپ کا یہی معمول رہا۔قادیان کے قیام کے دوران علاوہ اور جماعتی خدمات کے آپ مسجد متصل سٹار ہوزری لمیٹڈ ( جس میں دکاندار احباب نماز ادا کیا کرتے تھے۔فسادات ۱۹۴۷ء کے بعد یہ مسجد قائم نہ رہی ) میں قیام پاکستان تک امام الصلوۃ رہے۔اذان بڑی بلند آواز سے دیتے اور ایک ہی سانس میں ساری اذان مکمل کر لیتے۔آپ بڑے خلیق ، ملنسار، نیک، تقولی شعار اور دعا گو بزرگ تھے۔اپنا سارا کام خود کرتے۔عمر بھرا اپنی اولاد میں سے کسی پر بوجھ نہ بنے۔طبابت کے ذریعے اپنی روزی کماتے اور دکان میں ہی رہائش رکھتے۔ورزش بڑے استقلال سے با قاعدہ کرتے جس کی وجہ سے آپ کی صحت غیر معمولی طور پر اچھی تھی وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً ۹۵ برس کی تھی۔20 اولاد محمد عالم صاحب۔بشیر الدین صاحب۔حفیظ بیگم صاحبہ نظیر بیگم صاحبہ 21 حضرت چوہدری نور محمد صاحب ولادت : ۱۸۹۲ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۲۳ مارچ ۱۹۷۲ء22 چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں۔” بندہ نے خط کے ذریعہ ۱۹۰۳ء میں بیعت کی تھی اور ۱۹۰۵ء میں قادیان آکر حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہشتی مقبرہ باغ میں مجلس فرمایا کرتے تھے۔تین دن ہم رات دن وہاں ہی حضور کی خدمت کرتے رہے۔مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔آپ ۱۹۴۱ء میں ہجرت کر کے قادیان آئے اور پھر قادیان سے ہجرت کر کے ربوہ میں آباد ہوئے۔23 آپ کے فرزند چوہدری نذیر احمد صاحب ایکسین بہاولنگر ( بعد ازاں ایس ای محکمہ انہار وامیر ضلع بہاولپور ) تحریر فرماتے ہیں۔محترم والد صاحب ۱۸۹۲ء میں پھمبیاں ضلع ہوشیار پور میں حضرت چوہدری وزیر علی صاحب مدفون بہشتی مقبره قادیان وفات ۱۹۴۵ء) کے ہاں پیدا ہوئے۔پھمبیاں کی نصف آبادی مسلمانوں اور نصف آبادی غیر مسلموں کی تھی۔اس گاؤں میں ایک نہایت نیک سیرت بزرگ حضرت بابا باشم