تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 174 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلد 28 174 سال 1972ء والے اخبارات ورسائل اور نئی کتب کا ذکر فرمایا اس ضمن میں سب سے پہلے حضور نے تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد سوم اور تاریخ احمدیت جلد ۱۳ کا ذکر کیا۔حضور نے فرمایا یہ دونوں تاریخی کتا بیں ہماری جماعت کی نوجوان نسل کو اور ان دوستوں کو جو جماعت میں نئے شامل ہوئے ہیں ضرور پڑھنی چاہئیں اس سے انہیں یہ علم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت پر کتنے فضل کئے ہیں اور اس علم کے بعد وہ علی وجہ البصیرت اپنے رب قدیر کی حمد کرنے لگیں گے۔اس کے علاوہ ہر تاریخ اگلے زمانہ کے لئے سیڑھی کا کام بھی دیتی ہے اس لحاظ سے بھی نئے آنے والوں کو اپنی تاریخ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔اس کے بعد حضور نے روزنامہ الفضل کا ذکر کیا اور فرمایا اس کی اشاعت اتنی نہیں ہے جتنی کہ ہونی چاہیے احباب کو اس کی توسیع اشاعت کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔رسالہ تحریک جدید بیرونی ممالک میں ہماری تبلیغی مساعی کو پیش کرتا ہے اور ایک خاص طبقہ میں اس کی اشاعت بہت مفید ہوسکتی ہے۔ماہنامہ انصار اللہ جوانوں کے جوان یعنی انصار اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی توسیع اشاعت میں بھی جماعت کو دلچسپی لینی چاہیے۔ماہنامہ خالد خدام کا رسالہ ہے۔تفخیذ الاذہان بچوں کے لئے جاری کیا گیا ہے اسی طرح ماہنامہ الفرقان ہے۔دوستوں کو ان سب رسالوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف کی طرف سے تفسیر کبیر (از حضرت مصلح موعود ) کے مختلف اقتباسات پر مشتمل ایک اہم کتاب اسلام۔غریبوں اور یتیموں کا محافظ کے زیر عنوان شائع کی گئی ہے جسے موجودہ حالات میں کثرت کے ساتھ ملک میں اور بالخصوص ملک کے سیاستدانوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تا کہ انہیں یہ علم ہو کہ اسلام نے غریبوں اور یتیموں کے حقوق کا کس طرح تحفظ کیا ہے۔اس کے بعد حضور انور نے جماعت کے مختلف اداروں کی طرف سے شائع کردہ کتب کو بکثرت خریدنے ، بغور مطالعہ کرنے اور پھر ان کی وسیع اشاعت کرنے کی طرف احباب جماعت کو مؤثر رنگ میں توجہ دلائی۔178 حضور نے جماعتی کتب اور اخبارات و جرائد کو خریدنے اور ان کی وسیع اشاعت کرنے کی تحریک کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ان غیر معمولی افضال وانعامات کا خاص طور پر ذکر فرمایا جو گذشتہ دوسال کے دوران جماعت احمدیہ پر نازل ہوئے۔احباب جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی برکات کا یہ تذکرہ غیر معمولی طور پر بہت ہی از دیاد ایمان کا موجب بنا اور وہ بار بار پُر جوش اسلامی نعروں کے ساتھ اپنے شکر وحمد سے پر جذبات کا مخلصانہ اظہار کرتے رہے۔